تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 569 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 569

۵۵۴ کوئی جواب نہ بن پڑا۔11 ماہ ہجرت رمئی کا موضوع یہ تھا کہ کیا قرآن مجید الہامی کتاب ہے " مولانا شمس نے قرآن مجید سے اسکی الہامی ہونے کا دعوئی اور دلائل پیش کئے۔اور اپنے دعوئی کے ثبوت میں اس کا بے نظیر ہونا مخالفوں کا مثل لانے میں عاجز رہنا وغیرہ بطور دلیل بیان کیا۔مسٹر گرین کسی دلیل کو توڑ نہ سکے۔البتہ انہوں نے قرآن مجید میں تناقض ثابت کرنے کی کوشش کی اور کہا کہ قرآن نے ایک جگہ مسیح کو مصلوب کہا ہے اور دوسری جگہ اسکی انکار کیا ہے۔اس پر مولانا شمس نے پھیلنج کیا مگروہ آخر وقت تک مسیح کے صلیب پر فوت ہو جانے کا کوئی قرآنی حوالہ پیش نہ کر سکے۔۱۸ ماہ ہجرت اسی کو " کیا عہد نامہ جدید الہامی ہے " کے موضوع پر بحث ہوئی سونا نامی صاحہ نے پیشگوئیوں کے معیار کی رو سے ثابت کیا۔کہ موجودہ انا بیل ہرگز الہامی نہیں ہیں۔اس سلسلہ میں آپنے اس کی پیشگوئیوں میں تضاد کی متعدد مثالیں پیش کیں جن کا اقرار سٹرین کو بھی کرنا یا سرما جرت مٹی کو قرآن مجید کے الہامی ہونیکا مسئلہ زیر بحث آیا مولانا شمسی صاحب نے قرآن مجید کی متعدد ایسی پیش گوئیاں بائیں جو اس کی صداقت پر ناقابل تردید نشان ہیں۔مسٹر گرین ان پیشگوئیوں کے خلاف تو کچھ نہ کہ سکے۔البتہ کہا کہ قرآن مجید میں لکھا ہے کہ پہلے انبیاء کی کتابوں پر ایمان لاؤ جس کا مبلغ اسلام نے تفصیل سے جواب دیا۔۱۵ ماہ احسان یون کو موضوع بحث بعث بعد الموت " تھا۔دونوں مناظرین نے اپنے اپنے مذہب کا نقطہ نگاہ پیش کیا مگر حاضرین میں سے بعض نے یہ رائے دی کہ اسلامی زاویہ نظر معقول ہے۔۲۹ ماه احسان ربون کو پھر اسی موضوع پر تبادلہ خیالات ہوا۔ایک امریکن سپاہی نے مولا نا شتی صاحب کی تقریر سنکر کہا۔آپ نے جو کچھ بیان کیا ہے میں بھی یہی مانتا ہوں۔لیکن 19 مسٹر گرین کا نظریہ کفارہ ایک لغو خیال ہے۔سامعین میں سے بعض احمدیہ مسجد فضل میں مزید تحقیق کیلئے آئے جنہیں مطالعہ کے لئے لٹریچر دیا گیا۔لے ۶ مسٹر ماده دار جوں کی کو ستر گرین سے حضرت مسیح کی صلیبی موت پر مباحثہ ہوا۔میں نا شتی صاحب نے ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے دعوی کے ثبوت میں کسی مسلمان کا حوالہ پیش کریں کہ اتنی مسیح کے صیب پر مرنے کو تسلیم کیا ہوا انہوں - نے بھارج سیل کی تفسیر پرمعنی شروع کی مگر اسکی بھی یہ قول نقل کیا تھا کہ بعض مسلمان اس کی طبعی موت کے قائل ہیں اور یہ کہ مرنے کے بعد وہ اٹھایا گیا۔اس پر انہیں اتنا شرمندہ ہونا پڑا کہ پلیٹ فارم سے اتر کر نیچے بیٹھ گئے۔ار و فار جولائی کو موضوع یہ تھا کہ حضرت مسیح واقعہ صلیب کے بعد کہاں گئے ؟ مولانا شمس صاحب نے اس سلسلہ میں تاریخی حقائق سے حضرت مسیح کے یروشلم سے دمشق آئے اور وہاں سے نصیبی اور ایران کے رستے سرینگر تک الفضل دار نبوک استمبر لا الله مش من :