تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 40 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 40

ہم R سمین ہے ، مجیب ہے ، حفیظ ہے۔اسی طرح اور کئی صفات حسنہ کا مالک ہے۔اپنی آنکھوں دیکھی چیز کو کون رو کر سکتا ہے۔تو سائنس بھی اور فلسفہ بھی اور حساب بھی جہانتک خدا کا تعلق ہے ایک تھیوری سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے۔ان کو ماننے والا کہ سکتا ہے کہ شاید یہ غلط ہوں شاید یہ صحیح ہوں۔اسے قطعی اور یقینی وثوق ان علوم کی سچائی پر نہیں ہو سکتا لیکن ہمیں خدا تعالے کی ذات پر جو یقین ہے وہ ہر قسم کے شبہات سے بالا تر ہے۔وہ یقین ایسا ہی ہے جیسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اے خدا میں سورج کا انکار کر سکتا ہوں۔میں اپنے وجود کا انکار کر سکتا ہوں ، مگر جیس طرح تو مجھ پر ظاہر ہوا ہے۔میں اس کا کبھی انکار نہیں کر سکتا۔یہ وہ یقین ہے جو خدا پر ایمان لانے والوں کو حاصل ہوتا ہے مگر کیا ایسا یقین کسی سائنسدان کو اپنے کسی سائنس کے مسئلہ کی سچائی یہ ہوسکتا ہے۔یا کب ایسا یقین کسی حساب ان کو اپنے حساب کے کسی مسلم کی سچائی پر ہو سکتا ہے۔پہلے سمجھا جاتا تھا کہ حساب قطعی اور یقینی چیز ہے مگر اب نئی دریافتیں ایسی ہوئی ہیں جن کی وجہ سے حساب کے متعلق بھی شباب است پیدا ہونے شروع ہو گئے ہیں۔مگر حساب سے عام سودے والا حساب مراد نہیں۔بلکہ وہ حساب مراد ہے جو فلسفہ کی حد تک پہنچا ہوا ہے اور فلسفہ خود مشکوک ہوتا ہے۔ہر زمانہ میں جو فلاسفر ظاہر ہوتا ہے ان علوم کا انکار کرنے والا علوم جدیدہ کا منکر قرار دیا جاتا ہے۔لیکن انجی پچاس ساٹھ سال نہیں گزرتے کہ ایک اور فلہ فی کھڑا ہو جاتا ہے جو اس پہلے فلاسفر کی تحقیق کو غلط قرار دے دیتا اور نئے نظریات پیش کرنا شروع کر دیتا ہے۔اس وقت جو لوگ اس کے نظریات کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں لوگ ان کے متعلق یہ کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ وہ علوم جدیدہ کے منکر ہیں مگر پچاس ساٹھ سال نہیں گذرتے کہ ایک اور فلاسفر اس تحقیق کو قدیم تحقیق قرار دے کر ایک نئی تحقیق لوگوں کے سامنے پیش کر دیتا ہے اور پہلی تحقیق کو غلط قرار دے دیتا ہے۔کیا تم نے کبھی دیکھا ہے کہ خدا کا وجود بھی غلط قرار دیا گیا ہو یا کبھی کوئی نبی ایسا کھڑا ہوا ہو جس نے کہا ہو کہ خدا کے متعلق لوگوں کے دلوں میں ہو خیال پایا جاتا تھا وہ موجودہ تحقیق نے غلط ثابت کر دیا ہے۔آدم سے لے کر اب تک ہمیشہ ایسے وجود آتے رہے ہیں جنہوں نے اپنے تجربہ اور مشاہدہ سے دنیا کے سامنے یہ حقیقت پیش کی کہ اس