تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 548 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 548

۵۳۳ حضرت مرزا محمد شفیع صاحب موصوف کو سلسلہ احمدیہ کے لٹریچر کا بہت شوق تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تمام کتب اور خلفاء کی کتابیں آپ نے پڑھی ہوئی تھیں۔آپ کا معمول تھا کہ جو کتاب نئی شائع ہوتی فور خرید لیتے اور جب تک اُسے ختم نہ کر لیتے آپ کو چین نہ آتا تھا۔کتب حضرت مسیح موعود کے علاوہ اس مبارک زمانہ میں شائع ہونے والے اختبارات اور رسائل کا بھی باقاعدگی سے مطالعہ کیا کرتے تھے اور اپنی اولاد کو ہمیشہ تاکید فرماتے رہتے تھے کہ سلسلہ کے لٹریچر کا مطالعہ کیا کرو۔یہ تمہیں بہت فائدہ دے گا۔سلسلہ احمدیہ، حضرت مسیح میشود ، حضرت مصلح موعود حضرت ام المومنین اور دیگر افراد خاندان حضرت مسیح موعود سے آپ کو غایت در سبد محبت و عقیدت تھی اور اُن کی خدمت اپنے لئے باعث فخر سمجھتے تھے۔۶۱۹۴۰ پ پہلے دہلی میں مقیم تھے تو خاندان مسیح موعود کے اکثر افراد کی خدمت آپ ہی انجام دیتے تھے۔پھر جب ء میں قادیان ہجرت کر کے تشریف لے آئے تو اپنی اس ہدایت کو پوری شان سے جاری رکھا قادیان میں آپ نے یکم جنوری او سے اپریل 2 و تک بحیثیت آڈیٹر کام کیا اور اسکے بعد دنیات تک محاسب صدر انجمن احمدیہ کے عہدہ پر فائزہ رہے اور اس کام کو قابل رشک طریق پر نہایت عمدگی سے سمجھایا ؟ ہ میں آپ پر یونیہ کا حمل ہوا۔پھر گردے کی تکلیف ہوگئی۔درود فر موتیا بند کا اپریشن کرانا پڑا اور ماہ صلح بخوریم ہی میں میں انہوں کی تکلیف میں بھی منتقل ہو گئے جی سے علاج کے لئے مار ماہ اضاء راکتو بر سایر رش کو ولی تشریف لے گئے اور ہسپتال میں داخل ہو گئے۔ہسپتال میں داخل ہونے سے لیکر وفات تک قریبا پندرہ ہیں دفعہ اپنے فرزند مرزا منور احمد صاحب د مجاہد تحریک جدید ، کو تاکید فرمائی کہ دیکھو مرنا جینا ہر ایک کے ساتھ ہے اگر میں مرجاؤں تو مجھے ہر گز یہاں امانتا دفن نہ کرنا بلکہ قادیان سے بیانا اور اگر خدا نخود بستہ لیجانے میں کوئی روک ہو یا با وجود کوشش کے کوئی انتظام نہ ہو سکے تو پھر حضرت صاحب سے پوچھو کہ اما نشاد فن کرنا۔اور پھر لگے رہنا جب تک کہ مجھے قادیان نہ پہنچا دنیا " آخر خدا کی مشیت پوری ہو کر رہی اور ، در صلح تنبوری پیش کو آپ دہلی میںہی انتقال فرما گئے اسی جنوری : آپ نے دہلی روا نہ ہونے سے دو روز قبل اپنے ہا تھر سے مندر بعد ذلیل وہ بات لکھی تھی : و بسم اللہ الرحمن الرحیم تم ان نصلی علی رسولہ الکریم اشهد ان لا اله الا الله وحده لاشريك له واشهد ان محمداً عبدہ ورسولہ چونکہ میں اپریشن کیلئے وہی جارہا ہوں اور زندگی کا انحصار نہیں دیتے یہ یاداشت تحریر کرتا ہوں میں ایمان لاتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آنحضرت ی الله علیه واله وسلم خاتمان نیاء میں اور حضرت مرزا غلام احمدی میشود ، مہدی مسعود نبی اللہ ہیں۔اے الہ میری وفات ان کی غلامی میں ہو اور میں مقبرہ بہت تی میں دفن ہو بھائوں۔یہی دل کی حیرت یہی آرزہر ہے۔مرزا محمد شفیع 1 t