تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 547
27 در اصل احمدیت کا آخری ٹکراؤ اشتراکی روس کے ساتھ مقد رہے کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے کہ نامہ روس کا عصا میرے ہاتھ میں آگیا ہے۔اشتراکی نظام میں یقینا یہ خوبی ہے کہ وہ سرمایہ داری کی بھیانک تصویر کے خلاف ایک بھاری رد عمل ہے مگر پنڈولم کی حرکت کی طرح وہ دوسری انتہا کی طرف نکل گیا ہے اور مشائد سرمایہ داری سے بھی نہ یادہ خطر ناک بننے والا ہے۔اہ ۶۱۹۴ فصل حیام ان میں انتقال کر نیوالے شور در جلیل القدر صحابیہ اس سال جن صحابہ نے انتقال کیا ان میں رہے نمایاں شخصیت حضرت نواب محمد علی مخالصا سب کی تھی جن کے معاملات پر اس باب کے شروع میں روشنی ڈالی جا چکی ہے۔اب ذیل میں دوسرے جلیل القدر صحابہ کا ذکر کیا جاتا ہے :- - حضرت مرزا محمد شفیع صاحب محاسب، صدر انجمن احمدیہ قادیان: BA رو دوست نا انداز جمعیت جوانی سلام - وفات در سطح ر جنوری میں ہے۔دہلی میں پیدا ہوئے اور اپنی تقسیم اپنے ماموں حکیم فدا احمد صاحب طبیب شاہی مہا راجہ جموں و کشمیر کے زیر تربیت جموں میں حاصل کی۔اور اسی زمانہ میں حضرت خلیفہ المسیح الاول مولانا نورالدین سے نیاز حاصل ہوئے بسلسلہ احمدیہ سے آپ کا تعارف حضرت حکم اندار حسین صاحب آف طلب گڑھ کے والد ماجد کے ذریعہ ہوا اور آپ نے اُن سے حضرت مسیح موعود علی الصلواۃ و اسلام کی تصانیف سے کہ مطالعہ کیں اور سلسلہ میں بیعت کرلی۔آپ کا نام بیعت کنندگان کی فہرست میں اخبار العلم ارجون شاہ کے صفحہ ۶ پر درج ہے۔آپ ان دنوں جگا دھری ضلع انبالہ میں پوسٹما سٹر تھے۔نامہ میں آپ پہلی بار قادیان میں تشریف لائے اور سید نا حضرت مسیح موعود کی زیارت سے فیضیاب ہوئے اور پھر بالالتزام مہر سبکا نہ جلسہ پر آتے رہے۔ه تقری کا کل متن افضل (۳- صلح رمجبوری پاداش میں درج ہے : : - لفضل در صلح رجوری اش ما کالم و