تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 39 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 39

۳۹ مان سکتے ہیں ؟ اس پر وہ کہنے لگا۔اگر یہ باتیں درست ہیں تو پھر نا نا پڑے گا کہ یہ تصویری بابل ہے۔اس کلام کے ہوتے ہوئے ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ کوئی ایسا عقدہ نہیں جس کے تابع یہ تمام مرکز ہو۔تو مذہب کے لحاظ سے ہم ان چیزوں کے محتاج نہیں ہیں۔ہمارے لئے یہ ضروری نہیں کہ ہم سائنس کے علوم کی مد سے خدا تعالیٰ کو حاصل کریں۔بعدا بغیر سائنس کے بھی انسان کو مل جاتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی دیکھ لو۔آپ نے نہ فلسفہ پڑھا نہ سائنس پڑھی نہ حساب پڑھا نہ کوئی اور علم سیکھا۔مگر پھر خدا آپ سے اس طرح بولا کہ آجتک نہ کسی سائنسدان کو وہ نعمت نصیب ہوئی ہے نہ کسی حساب دان کو وہ نعمت نصیب ہوئی ہے نہ کسی فلسفی کو وہ نعمت نصیب ہوئی ہے۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی نہ یہ فلسفہ پڑھا۔نہ یہ سائنس پڑھی نہ یہ حساب پڑھا لیکن جس رنگ میں خدا نے آپ سے کلام کیا وہ نہ کسی فلسفہ والے کو نصیب ہوا نہ کسی سائنس والے کو نصیب ہوا نہ کسی حساب والے کو نصیب ہوگا۔اسی طرح اب میرے ساتھ جس طرح خدا متواترہ کلام کرنا اور اپنے غیب کی خبریں مجھ پر ظاہر فرماتا ہے یہ نہ سائنس کا نتیجہ ہے نہ فلسفے کا نتیجہ ہے نہ حساب کا نتیجہ ہے۔کیونکہ میں نے نہ سائنس پڑھی ہے نہ فلسفہ پڑھا ہے نہ حساب پڑھا ہے۔تو ہمیں کسی سائنس یا فلسفہ یا حساب کی مدد کی ضرورت نہیں۔بلکہ وہ لوگ جو دن رات ان علوم میں محو رہتے ہیں ان میں سے بھی ایک طبقہ ایسا ہے کہ اگر ہم اس کے سامنے اپنے الہامات پیش کریں اور وہ ان پر غور کرے تو ہمیں امید ہے کہ وہ سمجھ بھائے گا۔جیسے پروفیسر مولی جب میرے پاس آیا اور میں نے اس سے سنجیدگی کے ساتھ باتیں کیں تو وہ حقیقت کو سمجھ گیا۔اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ واقعہ میں مجھے قبل از وقت الہام کے ذریعہ کئی شیریں دی گئی تھیں جو اپنے وقت پر پوری ہوئیں۔اس وجہ سے اس کی راہ میں مشکلات تھیں۔لیکن اس نے اتنا ضرور تسلیم کر لیا کہ اگر الہام ثابت ہو جائے تو پھر یہ مان لینا پڑے گا کہ جس تھیوری کو میں پیش کرتا ہوں وہ غلط ہے۔جب اس نے الہام کا اسکان تسلیم کر تے ہوئے اپنی تھیوری کو غلط مان لیا تو وہ چین کے سامنے الہام پورے ہوتے ہیں وہ ایسی تھیوری کو کب مان سکتے ہیں۔وہ تو ایسے ہی خدا کو مان سکتے ہیں جو قادر ہے، کریم ہے ہمیں ہے، عزینہ ہے،