تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 510 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 510

چنانچہ تقریہ سننے کے بعد اکثر کی زبان پر تعریفی کلمات تھے بلکہ ایک کثیر طبقہ نے اس بات کا اقرار کیا کہ عقاید کے میدان میں گو ہم حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کے ساتھ اختلافہ رکھتے ہوں۔مگر اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتے کہ آپ موجودہ زمانہ میں ہندوستان کے بہترین عالم میں اور حقیقت بھی یہی تھی کہ علم اقتصاد کے متعلق قرآنی حقائق و معارف کا انکشاف اور یورپ کے اقتصادی فلسفہ کا رد آهنگ کسی انسان کی طرف سے ایسے رنگ میں پیش نہیں ہوا کہ خود منکرین اسلام ایسے نظام کی فضیلت کا اقرار کریں۔اور خود اشتراکیت کے حامی اشتراکیت کی خامیاں تسلیم کرنے پر مجبور ہو گئے ہوں۔چنانچہ حضرت مولانا شیر علی صاحب کا بیان ہے کہ انہوں نے تقریر کے بعد بعض غیر احمدی نوجوانوں کو آپس میں یہ گفتگو کرتے ہوئے سنا کہ اگر اب بھی تم نے کمیونسٹ کی تائید کی تو تم پر لعنت ہے۔اسی طرح ایک پروفیسر پر اس کا اتنا اثر پڑھا کہ وہ روپڑا۔تقریر کے اختتام پر غیر احدی پر وفیسر صاحبان اور طلباء کی طرف سے اس خواہش کا اظہار کیا گیا کپور کو وقت کی قلت کی وجہ سے حضور اپنی تقریر میں مضمون کے تمام پہلوؤں پر اپنے خیالات کا اظہارہ نہیں فرما سکے اس لئے ایک تقریر فرمائی جائے جس میں مضمون کے باقی حصص کی وضاحت ہو جائے تا لوگ علوم کے اس چشمہ سے سیراب ہو سکیں جو اللہ تعالے نے حضور کو عطا فرمایا ہے۔نیز یہ کہ یہ تقریر فوری طور یہ کتابی صورت میں چھپوا دیجائے۔اسی طرح پنجاب یونیورسٹی شعبہ اقتصادیات کے ایم۔اے کے بعض طلبہ نے اس تقریر کا انگریزی ترجمہ چھپوا کو یونیورسٹی اکنامکس ڈیپارٹمنٹ کے پروفیسروں کے پاس بھیجنے کی تجویز پیش کی۔نیز کہا کہ جہاں مختلف سکیمیں ہندوستان کی آئندہ فلاح اور اقتصادی ترقی کے متعلق دوسرے لوگوں کی طرف سے پیش ہو رہی ہیں وہاری یہ اسلامی نظام جو حضور نے پیش فرمایا ہے مسلمانوں کے خیالات کی نمائندگی کرے گا۔اس تقریر کے پہلے حصہ کی نسبت مسلمان پروفیسروں اور طالبعلموں نے یہ رائے دی کہ اسلامی اقتصادی نظام اس طرز پر پہلے کبھی پیش نہیں کیا گیا۔نہ ہندوستان کے کسی موجودہ مسلمان عالم نے اس موضوع پر اس رنگ میں قلم اُٹھایا ہے کہ اسلامی نظام کو تمام نقائص سے پاک ثابت کر کے ایسے رنگ میں پیش کرے کہ وہ قابل حمل ہونے کے علاوہ بہترین نظام معیشت بھی ہو۔جہاں تک غیر مسلم طبقہ کا تعلق ہے ان کے نزدیک اسلامی نظام کی وہ شکل جو حضور نے بیان فرمائی قابل عمل ہونے کے ساتھ ساتھ عالمگیر رواداری اور اخوت اور مساوات کے اصول یہ مبنی ہے۔جیسا کہ صاحب صدر طالہ را نچور مچندہ نے اپنی صدارتی تقریر میں واضح لفظوں میں