تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 502 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 502

فرمایا ہے۔۴۸۹ اپنی تقریر کے دوسرے حصے میں حضور نے کمیونزم کی تحریک کا مذہبی اور اقتصادی اور سیاسی نظریاتی اور عملی ہر لحاظ سے تفصیلی جائزہ لیا اور آخر میں روس کے متعلق یا تیل (حز قیل با ۲۸-۱۳۹) کی ایک عظیم استان پیشگوئی کا اردو متن شنانے کے علاوہ حضرت مسیح موعود علیہ اسلام اور اپنی پیشگوئی کا بھی ذکر فرمایا۔حضرت مصلح موعود چونکہ اسلام کی نمائندگی فرما رہے تھے اس لئے حضور نے کمیونزم پر تنقید کرتے ہوئے کمیونزم کے ان حصوں کو خاص طور پر لیا جو مذہب پر براہ راست اثر اندا نہ ہوتے ہیں۔یہ حصہ اس پوری تقریر کا نقطہ عروج تھا۔جس کو بیان کرتے ہوئے آپ کی آزانہ میں جلالی اور قوت و شرکت کا ایک نمایاں رنگ پیدا ہو گیا۔ذیل میں اس مقام کے بعض ضروری اقتباسات درج کئے جاتے ہیں تا اندازہ ہو سکے کہ پوری تقریر کس شان کی تھی اور کس جذبہ سے کی گئی۔حضور نے ارشاد فرمایا : " سب سے پہلا اعتراض جو کمیونسٹ نظام پر مجھے اور ہر موت کے بعد کی زندگی کے ماننے والے کو ہونا چاہیئے یہ ہے کہ اس میں شخصی طوعی بعد جہد جو زندگی کے مختلف شعبوں میں ظاہر ہو کہ انسان کو اخروی زندگی میں مستحق تو اب بناتی ہے اُس کے لئے بہت ہی کم موقعہ باقی رکھا گیا ہے۔۔۔مثلا اسلام ان مذاہب میں سے ہے جو اپنے پیروں کو یہ حکم دیتا ہے کہ جاؤرا در دنیا میں تبلیغ کرو۔جاؤ اور لوگوں کو اپنے اندر شامل کرو کیونکہ دنیا کی نجات اسلام سے وابستہ ہے۔وہ شخص جو اسلام سے باہر ر ہے گا نجات سے محروم رہے گا اور اخروی زندگی میں ایک مجرم کی حیثیت میں اللہ لہ کے سامنے پیش ہو گا۔تم ایک مسلمان کو یہ عقیدہ رکھنے کی وجہ سے پاگل کہ دو۔بیوقوف کہ لو۔جاہل کہ ہو۔بہر حال جب تک وہ اسلام کی سچائی پر یقین رکھتا ہے۔جبکہ بنی نوع انسان کی نجات نشر اسلم میں داخل ہونے پر ہی تھی سمجھتا ہے اسوقت تک وہ اپنا فرض کھتا ہے کہ میں اپنے ہر اُس بھائی کو جو اسلام میں داخل نہیں اسلام کا پیغام پہنچاؤں۔اُسے تبلیغ کروں اور اس پر اسلام کے محاسن اس خمدگی سے ظاہر کر دوں کہ وہ بھی اسلام میں داخل ہو جائے۔۔۔۔لیکن کمیونسٹ نظام میں اس کی کوئی گنجائش نہیں۔۔۔اول تو د سیاسی طور پر تبلیغ کی اجازت نہیں دیتے۔لیکن چونکہ یہ اقتصادی مضمون ہے اسلئے اسے نظر اندازند بھی کردو تو سوال یہ ہے کہ ایک اقلیت اکثریت کے مذہب کو بدلنے کے لئے کس قدر قربانی