تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 34
پڑتے ہیں یا جو اعتراضات اسلام کے بیان کردہ عقاید پر پڑتے ہیں وہ تمام اعتراضات غلط ہیں اور یقینا کسی غلط استنباط کا نتیجہ ہیں۔چونکہ اس قسم کے اعتراضات کا مرکز کالج ہوتے ہیں اس لئے ہمارے کالج کے قیام کی ایک غرض یہ بھی ہے کہ مذہب پر جو اعتراضات مختلف علوم کے ذریعہ کئے جاتے ہیں ان کا اپنی علوم کے ذریعہ رو کیا جلست اور ہمارے کالج میں جہاں اُن علوم کے پڑھانے پر پروفیسر مقرر ہوں وہاں ان کا ایک یہ کام بھی ہو کہ وہ انہیں سلوم کے ذریعہ ان اعتراضات کو نہ کریں، اور دنیا پہ ثابت کریں کہ اسلام پر تو اعتراضات ان علوم کے نتیجہ میں کئے جاتے ہیں وہ سرتا پا غلط اور بے بنیاد ہیں۔میں جہاں دوسرے پر وفیسروں کی غرض یہ ہوتی ہے کہ وہ ان اعتراضات کو زیادہ سے زیادہ قوی کرتے چلے جائیں وہاں ہمارے پروفیسروں کی غرض یہ ہوگی کہ وہ ان اعتراضات کا زیادہ سے زیادہ مذ کرتے پہلے جائیں۔اب تک ہمارے پاس کوئی ایسا ذریعہ نہیں تھا جس سے یہ کام سرانجام دیا جا سکتا۔انفرادی طور پر ہماری جماعت میں پروفیسر موجود تھے مگر وہ چنداں مفید نہیں ہو سکتے تھے اور نہ ان کے لئے کوئی موقعہ تھا کہ وہ اپنے مقصد اور مدھا کو معتد بہ طور بچہ حاصل کر سکیں۔بس یہاں ہمارے کالج کے منتظمین کو اور عملہ کو یہ کوشش کرنی چاہیئے کہ غیر مذاہب کے طالب علم جو داخل ہونے کے لئے آئیں ان کے داخلہ میں کوئی ایسی روک نہ ہو جس کے نتیجہ میں وہ اس کالج کی تعلیم سے فائدہ حاصل نہ کر سکیں وہاں منتظمین کو یہ بھی چاہیئے کہ وہ کالج کے پروفیسروں کے ایسے ادارے بتائیں جوان مختلف قسم کے اعتراضات کو جو مختلف علوم کے ماتحت اسلام پر کئے جاتے ہیں، جمع کریں اور اپنے طور پر ان کو لے کرانے کی کوشش کریں اور ایسے رنگ میں تحقیقات گریں کہ نہ صرفت متلی اور مذہبی طور پر وہ ان اعتراضات کو رد کر سکیں بلکہ خود ان معلوم سے ہی وہ ان کی تردید کردیں۔میں نے دیکھا ہے بسا اوقات بعض علوم بور را انچ ہو تے میں محض ان کی ابتدار کی وجہ سے لوگ ان سے ستاتھ ہو جاتے ہیں۔خدا کوئی تصوری نکل آئے تو بغیر اس کا ماحول دیکھنے اور بغیر اس کے بالہ اور مالیہ پر کافی غور کرنے کے وہ ان سے مثاثہ ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور سے علمی تحقیق قرار دے دیتے ہیں۔مشرق پچھلے سو سال سے ڈارون تھیوری نے انسانی دماغوں