تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 473
میرے چاروں رفقائے کار تے نہایت محنت ، مستعدی اور جانفشانی کے ساتھ دن رات میرے کام میں تعاون کیا۔ہر قسم کی تکلیف برداشت کی لیکن نہ صرف یہ کہ حرف شکایت زبان پر نہ آیا بلکہ ماتھے پر کبھی تیور بھی نہ آیا اور تمام وقت پوری بشاشت کے ساتھ مصروف کار رہے۔ہر مرحلے پر ان کا مشورہ میرے لئے حوصلہ بڑھانے کا موجب ہوا۔اور ان کا مشفقانہ تعاون میرے لئے قلبی اطمینان کا موجب ہوا۔فجزاهم الله احسن الجزاء جناب چوہدری علی اکبر صاحب کے سپرد آبادی کے اعداد وشمار کی تصدیق اور ضروری معلومات کا بہم پہنچانا تھا۔انہوں نے اپنے فرائض کو بڑی مستعدی سے نباہا۔اگرچہ انہیں ان کی سرانجام دہی میں بہت دوڑ دھوپ کرنا پڑی جولائی کے مہینے میں لاہور کا موسم بہت ناسازگار رہتا ہے۔لیکن جناب چوہدری صات کے رستے میں موسم کی شدت کسی قسم کی روک پیدا نہ کر سکی۔چور ہو کر آتے اور اپنے کام کی رپورٹ شنا کر فرش پر یہی دراز ہو جاتے اور کوفت سے آرام حاصل کرتے کمشن کے روبرو بحث کے دوران میں جب کبھی آبادی کے اعداد و شمار کے متعلق فریقین کے درمیان اختلاف پیدا ہوتا تو ایک صاحب فریق مخالف کی طرف سے اور جناب چوہدری صاحب ہماری طرف سے نامزد کئے بھاتے کہ دفتر آبادی میں جا کر متنازعہ اعداد شمار کی تصدیق کریں اور فضل اللہ ہر بار ہمارے پیش کردہ اعداد و شمار کی تصدیق ہوتی ہیں سے یہ بھی ثابت ہوا کہ جناب خواجہ عبد الرحیم صاحب نے جو نقشہ جات ہمیں عنایت فرمائے تھے وہ بہت محنت اور توجہ سے تیار کئے گئے تھے۔جناب خواجہ صاحب کے تشریف لے جانے اور وکلاء صاحبان کی تشریف آوری کے بعد ہم نے طبعا پہلا کام یہ کیا کہ طریقہ تقسیم کے متعلق سرکاری بیان کا مطالعہ کیا اور اس کا تجزیہ کیا اور ہم اس نتیجہ پر پہنچے کہ ملحقہ اکثریت کے علاقوں کی تشخیص کے لئے معیار کا تجویز کرنا لازم ہے۔گاؤں تو عملاً ایسا معیار بن نہیں سکتا تھا کیونکہ بعض علاقوں میں ایک گاؤں میں اگر مسلم اکثریت تھی تو ساتھ کے گاؤں میں غیرمسلم اکثریت تھی۔اس بناء پر کوئی معقول بعد بندی تجویز نہیں ہو سکتی تھی۔بتھانہ کو اگر معیار تجویز کیا جاتا تو اس صورت میں بھی یہی مشکل بہت جگہ در پیش تھی۔در اصل انتخاب تحصیل اور ضلع کے درمیان تھا گو ہم نے یہ بھی طے کیا کہ بحث کے دوران میں ہماری طرف سے کمشنری اور دو آبوں کو معیالہ اختیار کرنے کی طرف بھی اشارہ کر دیا جائے۔صوبے بھر کے اخبارات میں محقہ اکثریت کے علاقوں پر بحث بازی ہو رہی