تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 445 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 445

۲۳۳ خدمات کی ضرورت ہے۔آپ فوراً قائد اعظم سے ملیں چودھری صاحب موصوف اُن دنوں حضرت مصلح موعود کی اجازت خاص سے نواب سر حمید اللہ خاں صاحب والی بھوپال کے آئینی مشیر کی حیثیت سے بھوپال میں مقیم تھے اور عنقریب ریاستوں کے امینی مستقبل کی وضاحت کے لئے انگلستان روانہ ہو رہے تھے۔چنانچہ ملت اسلامیہ کا نڈر، جانباز اور قابل فخر سپاری میں مسلم آؤٹ لک کے مشہور مقریہ ناموس رسول کی شاندار وکالت کرنے کے بعد سے اب تک قوم و ملک کی انتہائی بے لوث اور بیحد مخلصانہ خدمت میں برابر مصروف تھا اور آزادی ہند کے معرکہ میں ایک انقلابی اور فیصلہ کن کردار ادا کر چکا تھا ) ، مسلمانان ہند کے مقبول محبوب سیاسی رہنما کی دعوت پر لبیک کہتا ہوا ، ارجون شاہ کو بھوپال سے برلی پہنچ گیا۔قائد اعظم نے دوران ملاقات آپ کو حد بندی کمیشن کے سامنے پنجاب مسلم لیگ کی وکالت کا اہم اور نازک فریضہ سونپا اور بتایا کہ اگر کمیشن میں باہمی کوئی سمجھوتہ نہ ہو سکا تو پھر یہ معاملہ ایک آزاد ثالث کے ذریعہ سے ملے کو ایا جائے گا۔قائد اعظم نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ وہ پاکستان دستور ساز اسمبلی کے لئے انگلستان سے ایک ماہر دستور اور ایک عمدہ ڈرا نمین بھی ساتھ لائیں جو اس سلسلہ میں مفید کام کر سکے۔چودھری محمد ظفراللہ خاں صاحب نے قائد اعظم سے ملاقات کے بعد پہلا کام یہ کیا کہ مسلم لیگی کارکنوں کو باؤنڈری کمیشن کے سلسلہ میں بعض ضروری ہدایات دیں اور پھر پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق جون کے آخری ہفتہ میں انگلستان تشریف لے گئے جہاں آپ مہندوستانی ریاستوں کے حکمرانوں کے اہم اجلاس میں شرکت اور مسٹرائیلی وزیر اعظم برطانیہ اور دوسرے بمطانوی افسروں سے مذاکرات کے بعد اور جولائی کو مله تاریخ احمدیت جلد پنجم صفحه ۵۷۰ -۵۹۶) میں بر صغیر کے اس مشہور مقدمہ کی روداد آچکی ہے۔لاہور کے مسلمان وکلاء کے ALL متفقہ فیصلہ پر آپ اس مقدمہ کی وکالت کے لئے پیش ہوئے تھے آپ نے اپنی عدالتی تقریران تاریخی الفاظ پر ختم در حالی کہ۔حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جن کے احکام کے سامنے دنیا کی چالیس کروڑ آبادی کی گردو میں ٹھیکی ہوئی ہیں جن کی غلامی پر دنیا کے جلیل القدر شہنشاہ عظیم الشان و زوار ، مشہور عالم جرنیل اور کرسٹی عدالت پر رونق افروز ہونے والے حج (جن کی قابلیت پر زمانہ کو ناز ہے فخر کرتے ہیں۔ایسے انسان کامل کے متعلق راجپال کی ذلیل تحریر کو کسی بیج کا یہ قرار دیتا کہ اس سے نبی کریم کی کوئی ہتک نہیں ہوئی تو پھر مسلم آؤٹ لک کے مضمون سے بھی یہ فیصلہ قرار دینے والے کو کہ اس سے کسی کی کوئی تحقیر نہیں ہوئی ہم صائب الرائے ٹھہراتے ہیں" اس موقعہ پر مولوی ظفر علی خاں صاحب فرط جوش سے آبدیدہ ہو گئے اور صفوں کو چیرتے ہوئے آگے بڑھے اور چودھری صاحب کا ہاتھ چوم کر آپ کو گلے سے لگا لیا ( " دور جدید " لاہور۔۱۶ اکتوبر ۱۹۳۳ صفحه ۴۰۳) - + نے بعض کا نفرات سے آپ کی روانگی کی تاریخ ۲۴ جون متعین ہوتی ہے۔یہ کی الفضل کار و فار جولائی پیش صفحه و