تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 443 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 443

بھی قانون کا پورا احترام کریں گے اور حکومت وقت کے ساتھ دلی تعاون اور اطاعت کے جذبے سے کام لیں گے۔ہمارے سیکھ دوستوں نے اس امر پر زور دیا ہے کہ اُن کی اقتصادی بہبود پر کسی صورت میں بھی آنچ نہیں آنی چاہیئے اور انہوں نے اس سلسلے میں انکم ٹیکس وغیرہ کے اعداد و شمار بھی پیش کئے ہیں۔میں فقط یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ انکم ٹیکس کے پیش کردہ اعداد و شمار ان کی اقتصادی برتری یا بہبود کی دلیل نہیں۔یہ عطیہ جات تو اُن کی خدمات کے عوض بطور انعام کے ہیں جو انہیں دیئے گئے۔اب وہ اگر ان اعداد و شما کو مزید رقیہ حاصل کرنے کے لئے بطور دلیل کے استعمال کرنا چاہتے ہیں تو یہ صریح زیادتی ہوگی کیونکہ ان کی خدمات کا حق انہیں پہلے ہی مل چکا ہے۔پس انہی الفاظ کے ساتھ میں جماعت احمدیہ کا کیس آپ کی پوری توجہ کے لئے پیش کرتا ہوں۔1 اسے ختم کرتا ہوں۔اور صوبہ سرحد کا استصواب اور آرجون لہ کی برطانوی سکیم میں صوبہ سرحد کے عوام کو یہ حق دیا گیا تھا کہ وہ پاکستان یا ہندوستان دستور ساز اسمبلی جماعت احمدیہ کے وقد شمیر کا تعاون میں شرکت کرنے کے لئے رائے دیں۔قائد اعظم نے صوبہ سرحد کے معرکہ استصواب کی خصوصی اہمیت کے مد نظر صوبہ سرحد مسلم لیگ کے مسلمانوں اور تمام لیگی لیڈروں کو ہدایت فرمائی کہ وہ سرحد کے مسلمانوں کو اس طرح منظم کریں کہ سرحد اس رائے شماری میں متفقہ طور پر پاکستانی دستور ساز اسمبلی میں شمولیت کا فیصلہ کر لے۔قائد اعظم کی اپیل کامیابی سے ہم کنار ہوئی۔، ارجولائی ۱۹۴۷ 2 کو تمام سرحد کے تمام حلقہ بجات انتخاب میں پولنگ ختم ہوا۔اور قریباً دولاکھ انانو سے ہزار ووٹروں نے پاکستان کے حق میں اور قریباً دو ہزار ووٹوں نے اس کے خلاف ووٹ دیئے اور صوبہ سرحد پاکستان میں شامل ہو گیا۔اس استصواب عامہ میں جماعت احمدیہ نے سرحد مسلم لیگ کا ہاتھ بٹانے اور سربندی مسلمانوںکی پاکستان میں شریک کرنے کی بعد و جہد میں سرگرم حصہ لیا۔چنانچہ جناب خواجہ غلام نبی صاحب گل کانزایم ایل اے کشمیر اسمبلی کی سرکردگی میں جماعت احمدیہ کشمیر کا ایک خصوصی و ند ان دنوں سرحد میں پہنچا اور اس نے اپنی خدمات " الفضل ۲۱ و قا / جولائی پیش صفحه ۸ کالم ۲ 7192