تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 442 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 442

اور تفریق پیدا ہو جائے گی اور ان کے نقطہ نظر کو بجھنے میں آسانی پیدا ہوگی۔میں یہ بھی عرض کروں گا۔کہ غیر مسلم کا لفظ "مسلم" کے لفظ کی طرح کسی ایک جماعت پر دلالت نہیں کرتا بلکہ غیر مسلموں میں پارسی عیسائی اور ہندو وغیرہ سبھی لوگ آجاتے ہیں (اور یہ سب قومیں ہندوستان میں آباد ہیں۔چونکہ کمشن کا کام یہ ہے کہ وہ مسلم اکثریت والے علاقے “ اور مغیر مسلم اکثریت والے علاقوں کی واضح طور پر نشان دہی کرے اس لئے تمام مسلمانوں کو بہر حال ایک ہی وحدت کے طور پر شمار کرنا زیادہ مفید ہو گا۔اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ صرف ” مسلمان ہی وہ جماعت ہیں جو خود علیحدہ طور پر شمار کئے جانے کا حق رکھتے ہیں اسکھ صاحبان غیر مسلموں " کے زمرے میں آتے ہیں) اور کشن کے فرائض و مقاصد کی رُو سے صرف مسلمان ہی ہیں جن کی اکثریت والے علاقے کی تعیین اس وقت ہمارا کام ہے یاد رہے کہ ملک کی تقسیم" مذہب " کے اصول کی بناء پر ہو رہی ہے اور قادیان کی حیثیت اس وقت بین الاقوامی یونٹ کی سی ہے جو دنیائے اسلام کے ساتھ ایک مضبوط اور گہرا تعلق رکھتا ہے اور میں یہاں یہ بھی عرض کر دوں کہ جب پاکستان بنے گا تو بہر حال اسلامی ملکوں سے اس کے گہرے روابط قائم ہوں گے اور جہانتک جماعت احمدیہ کا تعلق ہے اُسے بہر حال ان ممالک کے ساتھ تعلقات رکھنے میں زیادہ سہولت حاصل ہوگی اور یہی وجہ ہے کہ میری درخواست ہے کہ جماعت احمدیہ کے اس مطالبے پر نہایت ہمدردانہ غور فرمایا جائے۔میں آخری گذارش کے طور پر یہ بھی عرض کروں گا کہ سکھوں کو بوجہ اس حسن خدمت کے جو انہوں نے انگریزی حکومت کے لئے سر انجام دی ایک وسیع و عریض نہری رقبہ بطور عطیہ کے عطا فرمایا گیا۔اسی طرح جماعت احمدیہ بھی یہ کہنے کا تق رکھتی ہے کہ وہ بھی اپنی خدمات میں ہرگز پیچھے نہیں ضمیمہ پوتے کے مطالعہ سے معلوم ہوگا کہ جماعت احمدیہ کے ۱۹۹ حمتاز افراد نے فوج میں کشن حاصل کیا اور انہوں نے حکومت کے لئے نہایت قابل تعریف خدمات سر انجام دیں۔پس اس بناء پر جماعت احمدیہ کا مطالہ اولین اہمیت کا حامل ہے اور اس قابل ہے کہ اسے انصاف کے تقاضوں کے مطابق پورا پورا حق دیا جائے۔میں یہ بھی عرض کروں گا کہ جماعت احمدیہ نے اپنی خدمات کے عوض کبھی انعام یا عطیہ بات کی خواہش یا مطالبہ نہیں کیا۔ہمارا ایمان یہ ہے کہ ہم حکومت وقت کے ساتھ پورا پورا تعاون کرتے ہیں ہم آئندہ