تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 441 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 441

۲۹ اور ثقافتی سرمائے کی بقاء کے لئے ضروری ہے کہ اس زبان کا یہ تعلق قائم رکھا جائے۔جہانتک نہیں معلوم ہوا ہے بھارت میں جس زبان کو ترقی دی جا رہی ہے اس کا اردو زبان سے کوئی واسطہ نہیں اور اگر جماعت کے افراد کو مجبور کیا گیا کہ وہ ہندی زبان سیکھیں جو انڈین یونین کی ملکی زبان ہوگی تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ جماعت اپنا تمام ادبی اور ثقافتی اثاثہ تباہ کر دے یا اس کی اہمیت کو بالکل ختم کردے۔اس کے برعکس اگر وہ اُردو زبان کے ساتھ بدستور اپنا تعلق برقرار رکھنے کی کوشش کریں تو وہ اقتصادی طور پر سخت نقصان اُٹھا رہے ہوں گے۔اس لئے ضروری ہے کہ لسانی اعتبار سے بھی محبت احمدیہ کا مرکز پاکستان کے علاقے میں ہو۔جسٹس تیجا سنگھ ، جماعت احمدیہ کا اسلام کے ساتھ کیا تعلق ہے ؟ شیخ بشیر احمد، تمام احمدی اول سے آخر تک مسلمان ہیں اور وہ اپنے آپ کو مسلمانوں کا ایک حصہ سمجھتے ہیں اور یہ حقیقت بھی ایک دنیا جانتی ہے کہ جماعت احمدیہ کا مقصد اسلام کی اشاعت ہے اور وہ اسلام کے پیغام کو دنیا کے ہر کنارے تک پہنچانا اپنا فرض اور سعادت سمجھتے ہیں۔پس اس مقصد کے لئے ضروری ہے کہ ان کے لئے ایسے حالات نہ پیدا کئے جائیں جو انہیں خواہ مخواہ مشکلات میں وکیل دیں یہ جیسا کہ آپ صاحبان جانتے ہیں بھارت کے ہندوؤں میں ایک فرقہ سناتن دھرمی کہلاتا ہے اور یہ لوگ تبدیلی مذہب کے شدید مخالف ہیں۔پس اگر جماعت احمدیہ کے مرکز کو بھارت کے ماتحت رکھا گیا تو قدرتاً جماعت احمدیہ کے مقصد کو سخت ضعف پہنچے گا۔اور میں یہ واضح کر دوں کہ شاید جماعت اسے برداشت نہ کر سکے۔اس کے علاوہ ایک اور ضروری امر ہے جس کی طرف میں آپ کی توجہ مبذول کرانا مناسب سمجھتا ہوں اور وہ یہ کہ کمشن کی طرف سے بعض الفاظ کی حدود اور اُن کی تعیین کے سلسلے میں مسلم اور غیر مسلم کی اصطلاحات کی تعریف کی گئی ہے۔مسلم " ایک منفی قسم کی اصطلاح ہے اور اس میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جو اپنے آپ کو اسلام" کے دائرے سے باہر سمجھتے ہیں۔لہذا خورد کمشن کے نقطہ نظر کے پیش نظر بھی یہ ضروری ہے کہ تمام مسلمان کہلانے والوں کو ایک جماعت کے طور پر الگ حیثیت دی بجائے۔اس کا ایک فائدہ یہ ہو گا کہ 'مسلمان' اور غیر مسلمان کا اطلاق جن لوگوں پر ہو سکتا ہے ان میں قدرتنا ایک امتیات