تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 440 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 440

۴۲۸ ایک معمولی گاؤں ہے اور کسی بہت سے کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتا۔بیشک یہ مقامات مقدس ہیں مگر سکھ صاحبان ان سے کوئی روحانی فیض حاصل نہیں کر رہے۔سردار دربار سنگھ میں شریخ بشیر احمد صاحب کے ان الفاظ کے خلاف پر زور احتجاج کرتا ہوں۔انہوں نے یہ کہہ کر کہ سیکھ ان مقامات سے کوئی فیض حاصل نہیں کر رہے ، سکھوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔میں بڑی تحتدمی کے ساتھ یہ کہوں گا کہ یہ مقامات سکھوں کے مقدس مقامات ہیں اور وہ اُن سے روحانی فیض حاصل کرتے ہیں۔جسٹس دین محمد۔وہ کسی فرقے کے جذبات کو مجروح نہیں کر رہے۔وہ صرف یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ ان مقامات پر سکھ نہایت مختصر تعداد میں ہیں۔سردار در باراسنگھ، اپنے ہوش کے عالم میں انہوں نے یقینا سکھوں کے بعد بات کو مجروح کیا ہے۔جسٹس تیجا سنگھ ، یہ کشن کا کام ہے کہ وہ دیکھے کہ اُن کے دلائل میں کس قدر وزن ہے۔سردار دربار اسنگھ جو کچھ شیخ بشیر احمد صاحب نے کہا ہے میں اس کے علات پر زور احتجاج کرتا ہوں۔جسٹس دین محمد : آپ کا احتجاج نوٹ کر لیا گیا ہے۔میں شیخ بشیر احمد صاحب سے کہوں گا کہ وہ اپنی طرف سے نتائج نکالنے پر زور نہ دیں۔صرف اصل اعداد و شمار پیش کریں۔شیخ بشیر احمد: جماعت احمدیہ کی ۷۴۵ شاخیں ہیں اور ان میں سے ۴۷ ھ پاکستان میں واقع ہیں گویا تقریباً ۷۴ فیصدی شاخیں اس علاقے میں آتی میں جہاں پاکستان قائم ہو گا۔پھر آپ یہ بھی اپناتے ہیں کہ جماعت کا مالی نظام چندوں کی اُن رقوم پر قائم ہے جو جماعت کے افراد اپنی خوشی اور رضاه رغبت سے اپنی مرکزی انجمن کو بھیجتے ہیں۔پس اقتصادی لحاظ سے بھی یہ نہایت ضروری ہے کہ قادیان کو پاکستان کے علاقے میں شامل کیا جائے۔پھر اس کے علاوہ یہ بھی واقعہ ہے کہ مرکزی انجمین احمدیہ کا تقریباً ہزارہ ایکڑ رقبہ آراضی جو اس کا اپنا خرید کردہ ہے پاکستان کی حدود میں واقع ہے اور اس اراضی سے کئی گنا زیادہ قیمت کی جائدادیں جو جماعت احمدیہ کے افراد کی ملکیت ہیں پاکستان کی حدود میں واقع ہیں۔ان حقائق کی رو سے بھی قادیان پاکستان میں شامل ہونے کا حق رکھتا ہے۔اب میں جماعت احمدیہ کے لٹریچر کے متعلق بھی کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔اس حقیقت پر چنداں زور دینے کی ضرورت نہیں کہ جماعت احمدیہ کے لٹریچر کا کثیر حصہ اردو زبان میں ہے اور جماعت کے ادبی