تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 427 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 427

۴۱۵ جولائی کا کو تو بے صبح کی گاڑی سے وارد قادیان ہوئے۔مگر اگلے روز (۲۸ جولائی کو دوبارہ معد قدام ک بجے صبح بذریعہ کارلاہور تشریف لائے اور لیگ کے کیس کی بحث مکمل ہونے کے بعد اس جوانائی کو بدر عید الله کار کے بجے شام قادیان کہنچ گئے۔الغرض حضور نے ایوارڈ کی کارروائی بچشم خود ملاحظہ فرمائی۔حضرت صلی وجود کا ایک اشان فرمودہ جماعت امیہ کے پرانے ریکارڈ ے معلوم ہوتاہے کہ سیانا صرت خليفة السيح الثاني المصلح الموعود نے د راگست مکاء کو باؤنڈری نوٹ باؤنڈری کین سے حلق کمیشن ایوارڈ کے تعلق میں مولانا عبد الرحیم صاحب درد ایم۔اسے کے لئے جو حضور انور کے خصوصی نمائندہ کی حیثیت میں ان دنوں قائد اعظم محمد علی جناح سے ملاقاتیں کر رہے تھے حسب ذیل نوٹ لکھوایا :- اگر ا پر باری چناب نہر کا نظام علاقہ کو آبادی کی بناء پر تقسیم کرنے پر روک ہے اور اس کی وسبر سے مسلمانوں کی کثرت آبادی کو قربان کرنے کا خیال پیدا ہو رہا ہے تو بیشک مسلمانوں کی اکثریت والے رقبہ کے حصہ نہر کو بند کر دیا جائے۔وہ اس نقصان کے باوجود اپنی آبادی کی اکثریت والے علاقہ کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں اور نہر کے لئے اپنی آزادی کو قربان نہیں کرنا چاہتے۔ضلع گورداسپور کو نہر کا حصہ اتنا قلیل لگتا ہے یعنی وہ کل رقبہ زیرہ کاشت قریباً ساڑھے نوں کو ایکیا کے مقابلہ پر صرف ایک لاکھ پندرہ ہزار کے قریب ہے) اور پھر اس نہری حقہ میں بھی مسلمانوں کا بہت معقول حصہ ہے۔پس غیر مسلموں کے اتنے قلیل نہری حصہ کی وجہ سے جو ضلع کے رقبہ کا ایک بالکل مفید جز ہے۔تحصیل بٹالہ و گورداسپور کو جیس میں مسلمانوں کی مجموعی اکثریت قریباً ہو ہے قربان نہیں کیا جا سکتا مسلمانوں کی یہ اکثریت عیسائی آبادی کو ملا کر جو مسلمانوں کے ساتھ ہے قریباً ، 4 عمر ہو جاتی ہے۔ضلع لاہور اور مضلع گورداسپور جو مسلم اکثریت کے ضلع ہیں۔ان میں شہری علاقہ قریباً ساڑھے والا کھ ایکڑ ہے۔اس کے مقابل پر امرتسر کے ضلع میں صرف چار لاکھ ایکڑ نہری رقبہ ہے پس ڈبل رقبہ کو نصحت رقبہ کے تابع نہیں کیا جاسکتا جبکہ ضلع امرتسر کی تحصیل اجنالہ بھی مسلم اکثریت کا علاقہ ۲۸ 1 الفضل وفا جولائی ۳ سایت صفحہ : سے " الفضل " ۲۹ و قام جولائی مش صفحه ۸ + ۳۲ +1912 که " یکم ظہور / اگست