تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 402 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 402

۳۹۰ یہ پراپیگنڈا کر رہے تھے کہ احمدی مسلمان نہیں اور یقینی خدشہ تھا کہ ہندو یا سکھ باؤنڈری کمیشن کے سامنے اپنی بحث کے دوران یہ سوال اُٹھا دیں گے کہ احمدی چونکہ مسلمان نہیں اس لئے ضلع گورداسپور کی مردم شماری میں ان کو مسلمانوں میں سے تخارج کر دیا جائے تو یہ ضلع از ما غیر مسلم اکثریت کا ضلع قرار پاتا ہے اور مسلمان اقلیت میں رہ جاتے ہیں۔اس تشویشناک صورت حال کے پیش نظر مسلم لیگ چاہتی تھی کہ جماعت احمدیہ بھی مسلم لیگ کے وقت میں ایک علیحدہ محضر نامہ ضرور پیش کر دے تا حد بندی کھیشن پر یہ ثابت ہو جائے کہ احمدی اگر مسلمان قرار نہ بھی دیئے جائیں تب بھی یہ لوگ پاکستان میں آنا چاہتے ہیں۔یہ محضر نامہ چونکہ مسلم لیگ کے کیس کو مضبوط بنانے اور اس کے موقف کو تقویت دینے کے لئے تیا کیا گیا تھا اس لئے حضرت سیدنا المصلح المہ عود بنفس نفیس قادیان سے لاہور تشریف لائے اور اپنے ساتھ شیخ بشیر احمد صاحب اور مولوی عبدالرحیم صاحب درد کو لے کر جسٹس محمد منیر صاحب کی کو ٹی پر پہنچے۔جہاں جسٹس دین محمد صاحب بھی آگئے۔پنجاب کے ان ممتاز مسلم قانون دانوں کو جو ریڈ کلف ایوارڈ میں بطور رکن بھی شامل کئے گئے تیار شد محضر نامہ کی ٹائپ شدہ کاپیاں دی گئیں اور سب نے شروع سے لے کر آخر تک اس پر قانونی طور پر بحث تمحیص کی اور اس بات کا پورا پورا اطمینان کرلیا گیا کہ میمورنڈم کا کوئی فقرہ بلکہ لفظ ایسا نہ ہوئیں سے مسلمانوں کے مقاصد کو ذرہ برابر بھی نقصان پہنچنے کا احتمال ہو۔غرض کہ جب ہر طریق سے تسلی و تشفی ہو گئی۔تب اسم کو ریڈ کلف ایوارڈ کے سکریٹری تک پہنچا دیا گیا۔جماعت احمدیہ کا محضر نامہ | ذیل میں اس تاریخی دستاویز کا ترجمہ درج کیا جاتا ہے۔بسم الله الرحمن الرحيم۔۔۔نحمده ونصلى على رسوله الكريم سلسلہ احمدیہ جو مسلمانوں کا ایک اہم مذہبی فرقہ ہے اور جس کی شاخیں تمام دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں، اس کا مرکز گورداسپور کے ضلع میں واقع ہے۔مغربی اور مشرقی پنجاب کی جو عارضی تقسیم ہوئی ہے اس میں یہ ضلع پنجاب کے دونوں حصوں کی سرحد پر واقع ہے۔اس لئے سرحدی نزاع میں فریقین اس ضلع کے دعویدار ہیں۔پس اپنے قانونی حقوق کے تحفظ کے لئے یہ ضروری ہے کہ جماعت احمدیہ بھی اپنا نقطہ نگاہ مله " الفضل" ا صلح جنوری لاش ملخصاً از خطاب سيدنا المصلح الموعود) :