تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 401 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 401

کی غرض سے استعمال کئے گئے ہیں۔یہ بیان نہایت بے موقع سراسر نا مناسب اور بالکل بے بنیاد ہے۔اس بیان سے کمیشن کے کام پور نا جائزہ اثر پڑنے کے علاوہ مسلمانوں کے ساتھ بھی انتہائی بے انصافی کا دروازہ کھلتا ہے جن کے مقدس مقامات سکھوں کے مقدس مقامات سے تعداد اور اہمیت دونوں میں بہت زیادہ ہیں۔یہ بات بالکل خیال میں نہیں آسکتی کہ جب وائسرائے نے ٹریز آف ریفرنس کا اعلان ہندوستانی پارٹیوں کے اتفاق رائے سے کیا تھا اور ان ٹرمز آف ریفرنس کے مطابق کمیشن اپنا کام بھی شروع کر چکا ہے تو مسٹر ہینڈرسن کو اس بیان کی کیا ضرورت تھی۔ہینڈرسن صاحب اس بات کو بھی بھولے ہوئے ہیں کہ دوسرے حالات " کے الفاظ مرت پنجاب کے باؤنڈری کمیشن کے لئے ہی استعمال نہیں کئے گئے بلکہ بنگال کے کمیشن کے لئے بھی استعمال کئے گئے ہیں حالانکہ بنگال میں کوئی سکھ نہیں ہیں۔لہذا مسٹر ہینڈرسن کے اس بیان کی فوری تردید ہونی چاہیئے" سے مسلم لیگ کی طرف سے جماعت احمدی کو باندی کی تشکیل پر تین کی ایک مہینے زیادہ محضر نامے مسلمانوں کی طرف سے پیش کئے بھائیں بہتر اپنا علیحدہ محضر نامہ شامل کرنے کی تحریک ہیں۔اس خیال کے ماتحت جماعت احمدیہ سے بھی کہا گیا کہ وہ علیحدہ میمورنڈم پیش کرے چنانچہ جماعت احمدیہ اور اس کے علاوہ مسلم لیگ گورداسپور نے بھی علیحدہ محضر نامہ تیار کیا جو غلام فرید صاحب ایم ایل اے شیخ کبیر الدین صاحب سابق نمائندہ مسلم لیگ شیخ شروه جنین صاحب وکیل شیخ محبوب عالم صاحب اور مرزا عبد الحق صاحب کی مشترکہ کوشش سے مرتب کیا گیا تھا لیکن اس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ اصل فریق مسلم لیگ اور کانگرس ہیں اس لئے اپنا کیس پیش کرنے کا وقت صرف انہیں کو دیا جائے گا جب یہ فیصلہ حضرت مصلح موعود کی خدمت میں پہنچا تو آپ نے بھی عالیہ محضر نت پیش کرنے کا ارادہ چھوڑ دیا۔لیکن بعد میں جب کانگرس نے اپنے وقت میں سے کچھ وقت سکھوں اور اچھوتوں کو بھی دے دیا تو مسلم لیگ نے اس خیال سے کہ شاید اس کا تقسیم ملک پر کچھ اثر ہو۔۔۔۔۔۔۔دوبارہ تجویز گیا کہ وہ بھی چند محضر نامے پیش کرا دے۔چنانچہ اس نے اپنے وقت میں احمدیوں اور عیسائیوئی تعلیم دہ کیمون یادم پیش کرنے کی اجازت دے دی جس کا پس منظر یہ تھا کہ کانگرس نواز علما را خاص طور پر ۹۴۵ار کے الیکشن سے لے " الفضل ۲۲ و 16 جدائی ۳۲۶ پیش صفحه ۲ سے حضرت خلیفہ اسیح الثانی اصلح الموعود نے ۲۰ یہ سیاہ کی تقریر میں اخوجه و عبد الرحیم صدای این کشته -❤)