تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 400 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 400

۳۸۸ حضرت مصلح موعود کی طر بے باؤنڈری کمیشن کے لئے تیاری کے دوران دو ہم واقعات پیش آئے۔جن کا ذکر کرنا از لیس ضروری ہے۔قائد اعظم کو خصوصی پیغام پہلاواقعہ یہ ہے کہ حضرت خلیفہ ایسی اشانی الصلح الموعود نے پنی طرف سے مولوی عبدالرحیم صاحب درد کو یہ پیغام دے کو قائد اعظم محمد علی جناح کے پاس بھیجا کہ بھیشک آپ مستلج پر اصرار کریں لیکن یہ ساتھ ہی کہہ دیں کہ اگر ہمیں بیاس سے ورے دھکیلا گیا تو ہم نہ مانیں گے اور واقعہ میں نہ مانیں تب کامیاب ہوں گے ورنہ وہ بیاس سے در ور سے بھی دھکیں دیں گے ہم تو چاہتے ہیں کہ سارا پنجاب ہی تقسیم نہ ہو۔تاہم تقسیم کو تسلیم کر لیں تو محفوظ موقف ہمارا پیاس ہے مستلج نہیں " نائب وزیر نیند کے بیان پر قائد اعظم | دوسرا اہم واقعہ یہ ہے کہ مسٹر آرتھر مینڈ سین نائب وزیر بند نے کم ار جولائی کو برطانوی پارلیمنٹ میں ہندوستان کی آزادی اور جماعت احمدیہ کا شدید احتجاج کے بل پر بحث کرتے ہوئے یہ بیان دیا کہ باؤنڈری کمیشن کا بڑا صول یہ ہو گا مسلم و غیر مسلم اکثریت کے تصل علاقوں کو پاکستان یا ہندوستان میں شامل کر دیا بھائے۔لیکن خاص حالتوں میں دیگر امور " مثلا سکھوں کی پوزیشن کا خاص خیال رکھا جائے گا۔اس فتنہ انگیز بیان نے مسلمانوں میں تشویش و اضطراب کی ایک لہر دوڑا دی اور قائداعظم نے وائسرائے ہند کے پاس اس پر احتجاج کیا جو اسی دن برطانوی کا بینہ تک پہنچا دیا گیا اور قائد اعظم کو یقین دلایا گیا کہ مسٹر بہنڈرسن کے فقرے حد بندی کمیشن کے لئے ہدایت کا درجہ نہیں رکھتے تھے اس سلسلہ میں جماعت احمدیہ کی طرف سے 19 جولائی شاہ کو سٹرائیلی وزیر اعظم برطانیہ کے نام مندرجہ ذیل انتخابی تار بھیجا گیا۔مسٹر مہینڈرسن نے پارلیمنٹ میں جو یہ بیان دیا ہے کہ باؤنڈری کمیشن کی ٹرمز آف ریفرنس میں جو دوسرے حالات " کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں وہ سیکھوں کے مقدس مقامات کا خیال رکھنے نہ یادر ہے سکھوں کے مقابل بعض مسلم لیگی ذعمار نے ان دنوں مطالبہ کیا تھا کہ دریائے ستلج کے پار تک کا علاقہ پاکستان میں شامل کیا جائے کیونکہ پاکستان کی یہی قدرتی صد بنتی ہے (الفضل بهار و فار جولائی ده مش صفحه ۸) ه اقتباس از مکتوب حضرت مصلح موعود مرقومه اار اگست عه : الفضل و روشا جولائی انا الیہ ش صفحه ۵۸ +