تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 395
کمیشن نے اس روز صوبہ کے ۲۹ اضلاع میں سے پہندوارہ اضلات کو کیوں متنازعہ فیہ اضلاع کا اعلان متنازعہ فیہ اضلاع قرار دیا۔جن میں گورداسپور اور لاہور کے ضلعے بھی شامل تھے حالانکہ سو جون کی برطانوی سکیم میں ان کو قطعی طور پر مسلم اکثریت کا ضلع تسلیم کیا گیا تھا۔ان متنازعہ فیہ اضلاع میں فوج متعین کر دی گئی تا اُن کی نسبت فیصلہ نشر ہونے پر امن و امان برقرار رکھا جاسکے۔حد بندی کمیشن نے ہار جولائی کے دوسرے اجلاس میں یہ پروگرام طے کیا کہ وہ حد بندی کمیش کا پروگرام ہو جائی سے مختلف پاریوں کے عادی کی سماعت لاہور ہائیکورٹ میں شریع کر دے گا۔پہلے پچار دن ہندوؤں اور سکھوں کے وکلاء اور اس کے بعد چار دن مسلمانوں کے وکلاء اپنے دلائل دیں گے۔پھر ایک دن ہندوؤں اور سکھوں کو مسلم لیگ کے دلائل کا جواب دینے کے لئے دیا جائے گا۔اسی ضمن میں پریس نے یہ اطلاع بھی دی کہ مسلم لیگ کی طرف سے چودھری نہر محمد ظفر اللہ خاں صاحب ، ہندوؤں کی طرف سے بیٹی کے مشہور پیر سٹرک سی تلوار اور سکھوں کی طرف سے سردار ہرنام سنگھ ایڈوکیٹ پیش ہوں گے۔کمیشن کے متعلق خبر کی اشاعت اور جوانی کوگورنرپنجاب نے ایک حکم جاری کیا جس میں سرکاری اعلان کے سواحد بندی کمیشن سے متعلق کوئی اطلاع یا تبصرہ سفر پر گورنرپنجاب کی پابندی کے بغیر شائع کرنے کی مانعت کر دی گئی ہے جہاں ہندوؤوں اور سکھوں کو اپنا کیس تیار جماعت احمدیہ کے کیس کی تیاری میں بھاری مشکلات کرنے میں بہت آسانیاں میرتیں ہاں مسلم لیگ اور جماعت احمدیہ کے لئے یہ انتہائی سنگین اور از حد کٹھن مرحلہ تھا۔اول تو حد بندی کے اصول قواعد جاننے والے ماہروں کا فی الفور دستیاب ہونا مشکل تھا۔دوسرے پنجاب کی مردم شماری رسالہ) کا ریکارڈ مہیا کر کے ایسے اعداد و شمار مرتب کرنا جن سے زیادہ سے زیادہ علاقہ مغربی پنجاب میں شامل ہو سکے، اور مختلف پاور اسٹیشنوں، نہروں اور دریاؤں پر مغربی پنجاب کے حقوق اور کنٹرول ثابت کرنا یہ سب کام ایک زبر دست مہم کی حیثیت رکھتے تھے۔تیسرے بین الاقوامی قوانین کی کتابیں اور مشہور باؤنڈری کمیشنوں کی ضروری اور تازہ رپورٹیں جو اس مقصد کی تکمیل کے لئے درکار تھیں وہ ملک میں ناپید تھیں اور ان کا نہایت تنگ وقت میں بیرونی ممالک سے منگوایا جانا بہت دشوار تھا اور اخراجات کا مسئلہ مزید ہر آں تھا۔الفضل ۲۷ و فار جولائی صفحہ ۸ الفضل ، اروفا جولائی اش صفحه 4 " W