تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 394 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 394

PAY اس بات کی انتہائی جد وجہد کی بجائے کہ شہیدی بار الیشمول ننکانہ صاحب تحصیل شیخو پوره تحصیل گوجرانوالہ اور ضلع لائل پور) کا الحاق مشرقی پنجاب سے کیا جائے۔- گذشتہ ساٹھ ستر برس میں سکھوں نے لائل پور ، سرگودھا، شیخوپورہ ، ملتان اور منٹگمری کی ترقی میں نمایاں حصہ لیا ہے۔تنہا لائل پور کا ضلع جالندھر اور انبالہ کی ڈویژنوں سے زیادہ مالیہ ادا کرتا ہے سیکھوں نے یہاں نہریں کھدوائیں اور تمام سرمایہ ان علاقوں میں لگا دیا۔لہذا وہ ان اضلاع کے آدھے رقبہ کے یقیناً حق دار ہیں۔وہ علاقے جو مشرقی پنجاب میں شامل نہ کئے جائیں ان میں فسادات کی روک تھام کے لئے تبادلہ آبادی کی سہولت ضرور نہیں کی جانی چاہیئے۔(الملخصاً) حد بندی کمیشن کے ارکان اور صدر کا تقر اور بوریوں کو پنجاب اور بنگال کے سرحدی کشنوں دریائے چناب کو مشرقی حصد مقدر کرنے کا سکھ والی کے معموں کا اعلان کردیا گیا پنجاب کے کمیشن کے ممبر سبسٹس دین محمد، جسٹس محمد منیر ، جسٹس مہر چند کہا جن اور جسٹس تیجا سنگھ مقرر کئے گئے۔ازاں بعد 5 جولائی کو پنجاب اور بنگال کشنوں کا صدر سرسیل ریڈ کلف کو مرد کیا گیا۔اور در جوانی کو سکھوں نے یہ مطالبہ کیا کہ حد بندی کمیشن کو چاہیے کہ وہ مشرقی پنجاب کی حد دریائے چناب کو مقرر کرے ورنہ سکھ سر خون کی برطانوی سکیم کو ہرگز تسلیم نہیں کریں ہے کیونکہ اس تجویز نے پنتھ کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔بعد بندی کمیشن کا پہلا اجلاس ۱۴ جولائی ۹۴۷اٹر کو لاہور میں کوئی میمورنڈم کمیشن کے سامنے پیش کرنا چاہیں وہ زیادہ سے زیادہ ۱۸ جولائی کو چار بجے بعد دو پہر تک پیش کر دیں۔ہر میمورنڈم کے ساتھ چار زائد نقول اور ایسے نقشے بھی پیش کئے جائیں جن سے یہ معلوم ہو سکے کہ صوبے کی حد کس جگہ مقررکرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔تمام میمورنڈم کیشن کے سیکٹری کے وفتر واقع پنجاب لیجسلیٹو اسمبلی میں پیش کئے جائیں۔کسی پرائیویٹ شخص کا میمورنڈم وصول نہیں کیا جائے گا ہے ا " الفصل " ، روفا / جولائی سایش صفحه ، A " of الفضل ، رو فار جولائی سہ میں صفحہ ۸ صفرار