تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 383
۳۷۲ میں مسلمانوں سے بجھونہ اور بہتر تعلقات پیدا کرنے کے حق میں ہوں۔۔بہندووں میں ایسے لوگ ہیں جو ڈھنگ یا اُستادی سے سیکھوں کو نگل جانا چاہتے ہیں۔•۔ہندوؤں کا پچھلا وطیرہ اور تاریخ ہمیں پورا بھروسہ نہیں ہونے دیتی اور ہمیں خبر دار ہی رہنا چاہئیے۔۔۔۔یقین رکھو کہ کانگریس اور ہندوؤں نے ہماری علیحدہ پولیٹیکل سہتی کو مٹانے کی کوشش کرنی ہے۔پچھلے انتخابات میں یہ کوشش بہت زور سے کی گئی تھی لیکن ہم بچ گئے۔اگر آج پنجاب اسمبلی کے سارے سکھ میر کا نکاس ٹکٹ پر ہوتے تو ہم ختم تھے “ یہ الفاظ جن کے لکھے بجانے پر ابھی بمشکل نو ماہ کا عرصہ گذرا ہے ایک ایسے سکھ لیڈر کے قلم سے نکلے ہیں جو ہندو سے سیکھ بنا ہے اور ہم ان الفاظ پر قیاس کر کے سمجھ سکتے ہیں کہ اس وقت قدیم سکھوں اور خصوصاً جاٹ سکھوں میں ہندوؤں کے متعلق کیا خیالات موجزن ہوں گے۔مگر آج یہی پنجاب کا نامور خالصہ ہندوؤں کی آفیش میں راحت محسوس کر رہا ہے۔مجھے تسلیم کرنا چاہیئے کہ اس غیر معمولی تبدیلی کی ذمہ داری کسی حد تک مسلمانوں پر بھی عائد ہوتی ہے جنہوں نے سکھوں کو اپنے ساتھ ملانے میں پوری توجہ اور جد و جہد سے کام نہیں لیا۔مگر اس انقلاب کا اصل سہرا ہند و سیاست کے سر ہے جس نے اتنے قلیل عرصہ میں اپنی گہری دیر کے ذریعہ سکھ کو گویا بالکل اپنا بنا لیا ہے۔لیکن جس اتحاد کی بنیاد محض دوسروں کی نفرت و عداوت کے جذبہ پر ہو وہ زیادہ دیہ پا نہیں ہوا کرتا اور سمجھ دار سکھوں کی آنکھیں آہستہ آہستہ اس تلخ حقیقت کے دیکھنے کے لئے کھل رہی ہیں کہ ان کے لئے پنجاب میں ہندوؤں کی سانجھ سو فیصدی خسارہ کا سودا ہے پنجاب کی تقسیم" یا "پنجاب کا بٹواں " ایک ایسا نعرہ ہے جس کے وقتی طلسم میں ہند و سیاست نے سیکھ کو مخمور کر رکھا ہے۔مگر کیا کبھی کسی دانشمند سیکھ نے ٹھنڈے دل سے اس حقیقت پر غور کیا ہے کہ پنجاب کی مزعومہ تقسیم کے نتیجہ میں سیکھ کیا لے رہا ہے اور کیا دے رہا ہے۔یہ دو ٹھوس حقیقتیں بچے بچے کے علم میں نہیں کہ (1) پنجاب میں سکھ تیرہ فیصدی ہے اور (۲) پنجاب کے ۲۹ ضلعوں میں سے کوئی ایک ضلع بھی ایسا نہیں ہے جس میں سکھوں کی اکثریت ہو۔کیا اس روشن صداقت کے ہوتے ہوئے پنجاب کی کوئی تقسیم سیکھ مفاد کو فائدہ پہنچا سکتی ہے ؟ جو قوم ہر لحاظ سے اور ملک کے ہر حصہ میں اقلیت ہے۔وہ ملک کے بٹنے سے بہر حال مزید کمزوری کی