تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 371 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 371

۳۶۰ کی دوستی اور دشمنی کو نہیں دیکھیں گے بلکہ اس معاملہ کو انصاف کی نگاہوں سے دیکھیں گے۔اور جب انصاف پر قائم ہونے کے باوجود ہم پر کم ہوگا تو خدا کہے گا انہوں نے دشمنوں کے ساتھ انفا کیا تھا کیا تئیں ان کا دوست ہو کر ان سے انصاف نہ کروں گا اور اس کی غیرت ہمارے حق میں بھڑ کے گی جو ہمیشہ ہمارے کام آئے گی۔(انشاء اللہ) ہے س جون کا برطانوی اصلان ملک کے حالات روز بروز ابتر ہورہے تھے اور مفاہمت کا کوئی امکان سو جون کا برطانوی اصلان نہیں تھا۔اسی لئے انگریزی حکومت نے انتقال اقتدار کی مہم کو جلد از جلد ستر کرنے کے لئے آخری قدم یہ اٹھایا کہ لارڈ ویول کو لندن واپس بلا لیا اور ان کی جگہ لارڈ مونٹ بیٹن کو والسرار بنا کر بھیج دیا جنہوں نے سر خون کار کو وہ سکیم نشر کی جو کابینہ کی مکمل تائید کے ساتھ اپنے ہمراہ لائے تھے۔اس سکیم میں اختیارات کے تفوین کرنے کا یہ ڈھانچہ تجویز کیا گیا کہ مسلم اکثریت کے صوبوں میں سے یستاد، سرحد اور بلوچستان کی صوبائی اسمبلیوں سے استصواب کیا جائے کہ وہ موجودہ دستور ساز اسمبلی میں رہنا چاہتی ہیں یا ایک بدید اور جداگانہ دستور ساز اسمبلی میں جانا چاہتی ہیں۔جہانتک بنگال اور پنجاب کا تعلق ہے ان کی مجالس قانون ساز داور بین نمبروں کے علاوہ) دو حصوں میں تقسیم ہو کر مجمع ہوں۔ایک حصے میں مسلم اکثریت والے اضلاع کے نمائندے ہوں اور دوسرے حصے میں باقی اصلاح کے۔اور اگران دو حصوں میں سے کسی حصہ کی معمولی اکثریت نے بھی تقسیم کی موافقت بھی رائے دی تو اس صوبہ کو تقسیم کر دیا جائے گا اور ان کی حد بندی کے لئے گورنر جنرل ایک حد بندی کمیشن مقرر کریں گے جو حد بندی اس بنیاد پر کرے گا۔کہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کی اکثریت والے رہتے باہمی یکسانیت رکھتے ہوں۔فرقہ وارانہ یکسانیت و اختلاط کے علاوہ دوسرے امور ( OTHER FACTORS) بھی ملحوظ رکھنے ہوں گے۔کیم میں یہ بھی تصریح کردی گئی کہ اصلاح کی آبادی معلوم کرنے کے لئے ماہانہ کی مردم شماری کے اعداد و شمار قطعی سمجھے جائیں گے سکیم میں پنجاب و بنگال کے مندرجہ ذیل اضلاع مسلم اکثریت والے اضلاع تسلیم کئے گئے : پنجاب (قسمت لاہور) اضلاع گوجرانوالہ گورداسپور - لاہور شیخوپورہ ر قسمت راولپنڈی) اضلاع ایک گجرات جہلم میانوالی۔راولپنڈی۔شاہ پور ه " الفصل " الا اثرات منی س ش صفحه ۱ تا ۶ به