تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 358
۳۴۷ اس میں فائدہ ہے یا وہ اس نقطہ نگاہ سے فیصلہ کرے گی کہ اس امر میں دوسرے کا حق کیا ہے۔یقینا وہ ایسے معاملہ میں موخر الذکر نقطہ نگاہ سے ہی فیصلہ کرے گی۔مثلاً ایک مجسٹریٹ ایسے علاقہ میں عدالت کی کرسی پر بیٹھا ہے جس میں اس کے بعض قریبی رشتہ دار بھی رہتے ہیں اور اس کے ان رشتہ داروں کے دوسرے لوگوں کے ساتھ تنازعات بھی ہیں۔اس کے سامنے ایک ایسا مقدمہ پیش ہوتا ہے جس میں اس کے رشتہ داروں کا ایک دشمن مدعی ہے۔اگر اس کے پاس روپیہ ہو تو وہ اس کے رشتہ داروں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔اگر یہ مجسٹریٹ اسی مدعی کے حق میں فیصلہ کر دے تو اس مدعی کے پاس روپیہ آجاتا ہے اور پھر وہ اس مجسٹریٹ کے رشتہ داروں کو رق کر سکتا ہے تو کیا ایک دیانت دار مجسٹریٹ اس ڈر سے کہ کل کو یہ روپیہ ہمارے خلاف استعمال کرے گا، اس حقدار مدعی کے خلاف فیصلہ کر دے گا ؟ اگر وہ ایسا کرے گا تو یہ اس کی صریح نا انصافی ہوگی اور اگر وہ حق پر قائم رہتے ہوئے شہادات کو دیکھتے ہوئے اور مواد نسل کی روشنی میں قادری کے حق میں فیصلہ دیتا ہے تو کیا کوئی دیانتدار دنیا میں ایسا بھی ہو سکتا ہے جو اس کے فیصلہ پر یہ کہے کہ اس نے فیصلہ ٹھیک نہیں کیا اور اپنے اور اپنے رشتہ داروں پر ظلم کیا ہے۔کوئی شریعت اور دیانتدار مجسٹریٹ یہ نہیں کر سکتا کہ وہ کسی مقدمہ کا حصر اپنے آئندہ نوائد پر رکھے اور کوئی دیانتدار مجسٹریٹ ایسا نہیں ہو سکتا جو مواد مسل کو نظر انداز کرتے ہوئے آنکھیں بند کر کے فیصلہ دے دے بلکہ ایمانداری اور دیانتداری متقاضی ہے اس بات کی کہ وہ حق اور انصاف اور غیر مفید داری سے کام لے کہ مقدمہ کا فیصلہ سُنائے۔وہ یہ نہ دیکھے کہ جس شخص کے حق میں میں ڈگری دے رہا ہوں۔یہ طاقت پکڑ کر گل کو میرے ہی خاندان کے خلاف اپنی طاقت استعمال کرے گا۔پس انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ وہ عدالت کی کرسی پر بیٹھ کر نظر انداز کر دے اس بات کو کہ میں کس کے خلاف اور کس کے حق میں فیصلہ دے رہا ہوں۔وہ نظر انداز کر دے اس بات کو کہ جس روپیہ کے متعلق میں ڈگری دے رہا ہوں وہ روپیہ کل کو کہاں خرچ ہو گا اور وہ بھول جائے اس بات کو کہ فریقین مقدمہ کون ہیں کیونکہ انصاف اور ایمانداری اسی کا نام ہے۔پس قطع نظر اس کے کہ مسلم لیگ والے پاکستان بننے کے بعد ہمارے ساتھ کیا سلوک کریں گے۔وہ ہمارہ سے ساتھ وہی کابل والا سلوک کریں گے یا اس سے بھی بد تر معاملہ کریں گے۔