تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 357 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 357

۳۴۷۶ طاقت کو اور بھی کمزور کر لیتے ہیں۔یہ ادعا کہ پنجاب کی تقسیم آبادی کی بجائے جائداد کی بناء پر ہونی چاہیے نہ صرف جمہوریت کے تمام مسلمہ اصولوں کے خلاف ہے بلکہ اس سے مادی اموال کو انسانی جانوں پر فوقیت بھی حاصل ہوتی ہے جو ایک بالکل ظالمانہ نظریہ ہے" لے پاکستان کی تائید میں سیدنا المصلح الموعود دلی کے اخبار ریاست نے اپنے ایک ادارتی نوٹ میں احمدیوں کی پاکستان نواز پالیسی پر تنقید کی جس کا کا پر شوکت بیان ملخص یہ تھا کہ احمدی پاکستان کی تائید کر رہے ہیں مگر جب پاکستان قائم ہو گیا تو اُن کے ساتھ دوسرے مسلمان وہی سلوک روا رکھیں گے جو کابل میں افغان حکومت کی طرف سے کیا گیا تھا۔حضرت مصلح موعود کی خدمت میں جب اخبار " ریاست کے اس شذرہ کی اطلاع پہنچی تو حضور نے ہجرت امی یہ ہیش کو نماز مغرب کے بعد مسجد مبارک قادیان میں ایک پر شوکت تقریبہ فرمائی جس میں مطالبہ پاکستان کی معقولیت و ضرورت کو مختلف نقطہ ہائے نگاہ سے بڑی شرح وبسط سے واضح کیا۔اور اعلان فرمایا کہ مسلمان مظلوم ہیں اور ہم تو بہر حال مظلوموں کا ساتھ دیں گے خواہ ہیں تختہ دار پر یہی لٹکا دیا جائے حضور کی یہ یاد گار تقریہ تحفہ ذیل میں دی جاتی ہے۔فرمایا :- " آج مجھے ایک عزیز نے بتایا کہ دلی کے ایک اخبار نے لکھا ہے کہ احمدی اس وقت تو پاکستان کی حمایت کرتے ہیں مگر ان کو وہ وقت بھول گیا ہے جبکہ ان کے ساتھ دوسرے مسلمانوں نے مجھے سلوک کئے تھے۔جب پاکستان بن بھائے گا تو اُن کے ساتھ مسلمان پھر وہی سلوک کریں گے جو کابل میں اُن کے ساتھ ہوا تھا اور اس وقت احمدی کہیں گے کہ ہمیں ہندوستان میں شامل کر لو۔کہنے والے کی اس بات کو کئی پہلوؤں سے دیکھا جا سکتا ہے۔اس کا ایک پہلو تو یہی ہے کہ جب پاکستان بن جائے گا تو ہمارے ساتھ مسلمانوں کی طرف سے وہی سلوک ہو گا جو آج سے کچھ عرصہ پیشتر افغانستان میں ہوا تھا اور فرض کرو ایسا ہی ہو جائے، پاکستان بھی بن جائے اور ہمارے ساتھ وہی سلوک روا بھی رکھا جائے۔لیکن سوال تو یہ ہے کہ ایک دیندار جماعت جس کی بنیاد ہی مذہب اخلاق اور انصاف پر ہے۔کیا وہ اس کے متعلق اس نقطہ نگاہ سے فیصلہ کر رہے گی کہ میرا له الفضل " ۲۴ ہجرت املی اش صفحه ۳ :