تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 333 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 333

۳۲۲ کو دینا چاہیے بلکہ انہیں چاہیے کہ وہ حسب سابق اس معاملہ کو پھر اپنے ہاتھ میں لے لیں تاکہ کوشش کا سلسلہ جاری رہے یہانتک کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے کامیابی کا دروازہ کھول دے۔حضرت مصلح موعود کی یہ روحانی اور مادی تدابیر بالآخر کامیاب ہوگئیں اور وائسرائے ہند نے اس معاملہ کو اپنے ہاتھ میں لے لیا اورمسلم لیگ ہائی کمان نے نہایت درجہ فہم و فراست اور حیرت انگیز معالم فہمی کا ثبوت دیتے ہوئے کانگرس سے سمجھوتہ کئے بغیر اور باقی سوالات کو کھلا رکھتے ہوئے عبوری حکومت میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا اور ۳ار اکتوبر کو اس کی اطلاع وائسرائے ہند تک بھی پہنچادی۔چنانچہ پنڈت نہرو نے ۳ار اکتوبر کو قائد اعظم کے نام اپنے ایک خط میں لکھا کہ " وائسرائے نے مجھے مطلع کر دیا ہے کہ مسلم لیگ نے اپنی طرف سے پانچ ارکان عارضی حکومت میں نامزد کرنا قبول کر لیا ہے مجھے یہ فیصلہ انتہائی غیر موافق اور غیر متوقع حالات میں ہوا۔اور اس نے کانگرس کے معلقوں میں کھلبلی مچادی۔اس حقیقت کا اندازہ لگانے کے لئے مسلم لیگ کے خصوصی ترجمان نوائے وقت" کے دو اقتباس ملاحظہ ہوں۔اخبار نوائے وقت“ نے مارنے ۱۳ اکتوبر ہ کے اداریہ میں دہلی کے سیاسی مذاکرات کو بے نتیجہ قرار دیتے ہوئے لکھا:۔پہلی کی کانفرنس بلکہ کا نفرنسوں کا بھی وہی حشر نظر آتا ہے جو شملہ کا نفرنس شہر اور شملہ کا نفرنس ہ کا ہوا۔آج ایسوسی ایٹڈ پریس کی اطلاع تو یہ ہے کہ نواب، بھوپال کی کوششیں ناکام رہیں۔بھی تک اس خبر کی تصدیق نہیں ہو سکی مگر ہمارا اپنا قیاس یہی ہے کہ یہ خبر درست ہو گئی۔دونوں شملہ کا نفرنسوں میں بارہا ایسے مراحل آئے جب اچھے اچھے باخبر اور فہمیدہ لوگوں کی رائے یہ تھی کہ بیس اب سمجھوتہ کے مشترکہ اعلان پر دستخط ہونے رہ گئے ہیں اور وہ صبح تک ہو جائیں گے۔باقی ساری بات پکی ہو چکی ہے۔مگر صبح معلوم ہوا کہ ہنوز روز اول ہے اور ابھی مبادیات کا میلہ بھی نہیں ہوا " کہ لیکن اسی نوائے وقت میں اس کے سیاسی نامہ نگار کے حوالہ سے یہ خیر بھی شائع ہوئی کہ مسلم لیگ اور کانگرس کی گفتگوئے مصالحت کی ناکامی کے بعد سیاسی حالات نے یک لخت له الفضل در اتحاد / اکتوبر مروہ کے حالات قائد اعظم محمد علی جناح صفحه ۶۰۶ ( از خالد اختر افغانی طبع دوم 1 ٢١٩٤٦