تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 314 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 314

۳۰۳ کا حق ہے کہ اپنے سابق معاہدہ کو تبدیل کر دے جیسا کہ پولینڈ کی حکومت کے بارہ میں انگلستان نے کیا راس امر کو یکی نظر انداز کرتا ہوں کہ انگلستان نے پوری تحقیق اس امر کی کر لی تھی کہ نہیں کہ پولینڈ کی اکثریت سابق حکومت کے ساتھ ہے یا خاص حالات پیدا کر کے اس سے خلاف رائے لے لی گئی ہے، لیکن اگر حالات وہی ہوں جیسے کہ پہلے تھے تو پر یہ کہ کہ سابق وعدہ کو نظر انداز کر دیا کہ حالات بدلنے پر وعدے بھی بدل سکتے ہیں اخلاق کے خلاف ہو گا حکومت انگریزی کو اپنے سابق وعدوں میں کسی تبدیلی سے پہلے یہ ثابت کرنا چاہیے کہ وہ کون سے حالات تھے جن میں کوئی وعدہ انہوں نے کیا تھا اور اب کون سے نئے حالات پیدا ہو گئے ہیں جن کا طبعی نتیجہ وعدہ کی تبدیلی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے جب تک وہ ایسا نہ کریں ان کا یہ کہہ دیتا کہ اب حالات بدل گئے ہیں صرف متعلقہ جماعت کے دنوں میں شکوک اور جائزہ شکوک پیدا کرنے کا موجب ہوگا۔اخلاق کی طاقت یقیناً انگلستان اور ہندوستان بلکہ تمام دنیا کی مجموعی طاقت سے بھی زیادہ ہے۔پس اگر حقیقت حالات نہ بدلے ہوں تو گول مول الفاظ استعمال کرنے کی بجائے پارلیمنٹری وفد کو اعلان کرنا چاہئیے کہ ہم سے پہلی حکومت بد دیانتی سے ہندوستانیوں کو لڑوانے کے لئے بعض اقوام سے کچھ وعدے کہ چکی ہے جو ہم برسر اقتدار ہونے کے بعد پورا کرنے کے لئے تیار نہیں لیکن یہ درست نہیں کہ وہ ایک ہی سانس میں پہلی حکومت کی دیانت کا بھی اظہار کرے اور اس کے وعدوں کو یہ کہو کہ توڑ بھی دے کہ بدلے ہوئے حالات میں وحدسے بھی بدل جاتے ہیں۔دان فکر مین حالات میں وہ وعدے کئے گئے تھے وہ بالکل نہ بدلے ہوں ، عوام الناس فقروں میں آجاتے ہیں۔لیکن عقلمند لوگ صرف فقروں سے دھوکا نہیں کھاتے۔تعمیری بات میں مشن کے ممبروں سے یہ کہتی چاہتا ہوں کہ کوئی ایسی حالت پیدا کر دینا جس کے نتیجہیں ایک اقلیت اپنے حقوق لینے سے محروم رہ بجائے خود انگلستان کو ہی مجرم بنائے گا۔انگلستان یہ کہ کر بچ نہیں سکتا کہ اس نے یہ نتیجہ پیدا نہیں کیا۔نتائج کی ذمہ داری ذرائع کے پیدا کرنے والے پر ہی ہوا کرتی ہے۔چوتھی بات کمشن کے ممبروں سے میں یہ کہنی چاہتا ہوں کہ اگر وہ انصاف کو قائم رکھیں گے تو یقینا ہند وسلم سمجھوتہ کرانے میں کامیاب ہو سکیں گے۔ہمیں اس امر کا قائل نہیں کہ انگلستان کا بنایا ہوا ہندوستان اصل سہندوستان ہے لیکن میں اس امر کا بھی انکار نہیں کر سکتا کہ ہندوستان میں جس قدر استحاد بھی باہمی سمجھوتہ سے ہو سکے ، وہ یقیناً ہندوستان اور دوسری دنیا کے لئے مفید ہوگا۔میں برٹش ایمپائی کے اصول کا دیر سینہ مداح ہوں۔میرے نزدیک برطانوی اسپائمہ کا اصول اس وقت تک کی قائم کردہ انٹرنیشنل لیگ یا یو۔این اے سے بدرجہا بہتر