تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 297
۲۸۸ سے ذبح کیا گیا۔اور لیگی اخباروں میں بڑے طمطراق سے اعلان کیا گیا۔اور کیو کھٹے میں اس خبر کو نمایاں شائع کیا گیا۔مرزائی بھی لیگ میں شامل ہو سکتے ہیں لاہور سمیٹی۔جماعت احمدیہ قادیان کے ناظر اور سامہ لکھتے ہیں کہ میں اعت، کے صدر مقام میں پچھلے ونوں اس مسئلے پر غور ہوتا رہا ہے کہ جماعت احمدیہ کے نمبروں کو مسلم لیگ میں اجازت دی جائے یا نہ محال ہی میں مسلم لیگ کے صدر نے پیرا کبر علی (مرزائی ناقل) ایم ایل اے کو ایک انٹرویو لیتے ہوئے یقین دلایا ہے کہ آل انڈیا مسلم لیگ کے تازہ ترین آئین کی رو سے لیگ میں شرکت کے لئے احمدیوں پر کوئی پابندی نہیں ہے۔وہ بھی دوسرے فرقے کے مسلمانوں کی طرح تمام حقیق سے مستفید ہو سکتے ہیں۔احسان " لیگی اخبار همینی ۴ اس اعلان کا شائع ہونا تھا کہ مرزائی اور لیگی بر سر عام ہم آغوش ہوئے۔لیگ میں مرزائیوں کو شامل کی لیا گیا اور مسلم رائے عامہ سرپیٹ کر رہ گئی۔چنانچہ بعض نخلس لیگی مسلمانوں کو بھی مسٹر جناح کی اس غیر اسلامی حرکت پر غصہ آیا۔۳۰ جولائی ۱۹۴۷ء کو لاہور میں مسلم لیگ کی آل انڈیا کونسل کا اجلاس ہوا۔مولانا عبد الحامد بدایونی جن کے دل میں تھوڑی بہت اسلامی تڑپ اور غیرت موجود تھی۔انہوں نے اس کونسل کے اجلاس میں ایک قرار داد پیش کرنے کا نوٹس دیا کہ مرزائی چونکہ مسلمان نہیں ہیں اس لئے ان کو لیگ سے نکال دیا جائے۔قرار داد کے الفاظ کو زمیندار لاہور نے مبلی الفاظ سے لکھا جو حسب ذیل ہیں :۔قادیانیوں کے اخراج کے متعلق قرار داد مولانا عبد الحامد بدایونی نے لکھا ہے کہ دنیائے اسلام اور ہر طبقہ و خیال کے مقتدر علماء نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ مرزا غلام احمدقادیانی اور ان کے پیرو دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔لہذا انہیں مسلم لیگ کے دائرے میں ہرگز شرکت کی اجازت نہیں ہونی چاہیئے۔اب قادیانیوں کی مسلم لیگ میں شمولیت یا عدم شمولیت کے متعلق بعض حلقوں میں بڑا چرچا ہے۔اس لئے آل انڈیا مسلم لیگ کا یہ اجلاس قرار دیتا ہے کہ علمائے اسلام کے متفقہ فیصلہ کے احترام میں کوئی قادیانی مسلم لیگ میں