تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 286
مسلم لیگ کی مدد کریں“ YA۔یونینسٹوں کے بارہ میں جناب مرزا صاحب نے فرمایا :- "جب تک یونینسٹ پارٹی اپنی پالیسی کی ایسی وضاحت نہیں دیتی جس سے اس کا مسلم لیگ کی مرکزی پالیسی سے پورا تعاون اور تائید ثابت ہو اور جس کے بعد شملہ کا نفرنس والے حالات کا اعلاد نا ممکن ہو جائے۔میں سمجھتا ہوں کہ کسی احمدی کو یونینسٹ ٹکٹ پر کھڑا نہیں ہونا چاہئیے" مسلم قوم کی مرکزیت ، پاکستان، یعنی ایک آزاد اسلامی حکومت کے قیام کی تائیدا مسلمانوں کے پاس انگیز مستقبل پر تشویش ، عامتہ السلمین کی صلاح و فلاح نجاح و مرام کی کامیابی ، تفریق بین المسلمین کے عضلات برہمی اور تحصہ کا اظہار کون کر رہا ہے ؟ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اور جماعت حزب اللہ کا داعی اور امام الہند ؟ نہیں! پھر کیا جانشین شیخ الہند اور دیوبند کا شیخ الحدیث ؟ وہ بھی نہیں! پھر کون؟ وہ لوگ جن کے خلاف "کفر" کے فتووں کا پشتارہ موجود ہے۔جن کی نامسلمانی کا چرچاگھر گھر ہے۔جن کا ایمان ، جن کا عقیدہ مشکوک مشتبہ اور محل نظر ہے۔کیا خوب کہا ہے ایک شاعر نے کامل اس فرقہ ان ہار سے اُٹھا نہ کوئی کچھ ہوئے تو یہی رندان قدح توار ہوئے ہے چونکہ تحریک پاکستان کے اعتبار سے اس الیکشن کو ایک فیصلہ کن حیثیت حاصل ہونے والی تھی اس لئے تصوری اس مفصل اصلان کے علاوہ نجی ملاقاتوں، پرائیویٹ مخلوط کے علاوہ بعض دوسرے بیانات میں بھی احمدیوں کو بار بار مسلم لیگ کی تائید و حمایت کرنے کا ارشاد فرمایا اور مسلمانوں کی قومی زندگی کے لئے انفرادی طور پر قربانی کرنے کی تاکید فرمائی۔اس تعلق میں بطور مثال بعض واقعات کا تذکرہ ضروری ہے۔قائد اعظم محمد علی جناح کی طرف سے ام می برد صاحب دانی انگار پردا ضلع رائے پور) عت کا حضرت خلیفتہ اسیح الثانی الصلح الموعود کی ندمت میں ربیع الثانی کی حضر مصلح موعود کے ایک خط کی پریس میں الفات شروع اکتوبر ۱۹۴۷ء میں ایک مکتوب پہنچا جس میں انہوں نے الیکشن کے بارہ میں رہنمائی کے لئے درخواست کی تھی حضرت مصلح موعود نے ان کو تحریر فرمایا کہ مسلم لیگ کی ہر قائد اعظم اور ان کا عہد" مصنعت سید رکھیں احمد جعفری ندوی) صفحه ۴۲۰ تا ۰۴۲۲