تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 285
۲۷۹ شکست ہو گئی تو مدتوں کے لئے مسلمانوں کی قسمت تاریک ہو جائے گی" مرزا محمود احمد صاحب کا بیان قادیانی گروہ کے امام جماعت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے اور اکتوبر ن شا ہ کو ایک طویل بیان اس سلسلہ میں شائع فرمایا جس کے جستہ جستہ حصے ذیل میں درج کئے جاتے ہیں :- " کسی شخص کا کسی دوسرے شخص کے مفاد کا دیانت داری سے خیال رکھنا یا ایسا کرنے کا وونی دار ہونا اسے اس کی نیابت کا حق نہیں دے دیتا، کیا کوئی وکیل کسی عدالت میں اس دعوے کے ساتھ پیش ہو سکتا ہے کہ میں ہوگی یا مدعا علیہ کے وکیل سے زیادہ سمجھ دار ہوں اور دیانت داری سے اس کے حقوق کو پیش کر سکوں گا۔کیا کوئی عدالت اس وکیل کے ایسے دھوسے کو باوجو دستچا سمجھنے کے قبول کر سکے گی ؟ اور کیا اس قسم کی اجازت کی موجودگی میں ڈیمو کریسی ڈیمو کریسی کہلا سکتی ہے ؟ آگے پھل کہ موصوف فرماتے ہیں :- کانگریس کے اس اعلان نے کہ اب وہ مسلم لیگ سے بات نہیں کرے گی بلکہ مسلمان افراد سے خطاب کرے گی کہ میرے بعد بات کو بالکل بدل دیا اور میں نے محسوس کیا کہ جولوگ دروازہ سے داخل ہونے میں ناکام رہے ہیں اب وہ سرنگ لگا کر داخل ہونا چاہتے ہیں اور اس کے معنی مسلم لیگ کی تباہی کے نہیں بلکہ مسلم کیر کیر اور مسلم قوم کی تہا ہی ہے۔میں اسی وقت سے میں نے یہ فیصلہ کو لیا کہ جب تک یہ صورت حالات نہ بدلے ہیں مسلم لیگ کی پالیسی کی تائید کرنی چاہئیے " جناب موصورت اپنی جماعت کے اصحاب کو ہدایت دیتے ہوئے فرماتے ہیں :- آئندہ انتخابات میں ہر احمدی کو مسلم لیگ کی پالیسی کی تائید کرنی چاہیے۔تاکہ انتخابات کے بعد مسلم لیگ بلا خوف تردید کانگرس سے یہ کہہ سکے کہ وہ مسلمانوں کی نمائندہ ہے۔اگر ہم اور دوسری جماعتیں، ایسانہ کریں گی تو مسلمانوں کی سیاسی حیثیت کمزور ہو جائے گی اور ہندوستان کے آئندہ نظام میں ان کی آواز بے اثر ثابت ہوگی اور ایسا سیاسی اور اقتصادی دھن کا مسلمانوں کو لگے گا کہ اور چالیس پچاس سال تک ان کا سنبھلنا مشکل ہو جائے گا اور میں نہیں کہہ سکتا کہ کوئی عقلمند آدمی اس حالت کی ذمہ داری اپنے اوپر لیٹے کو تیار ہو۔پس تھیں اس اعلان کے ذریعہ تمام صوبہ جات کے احمدیوں کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ اپنی اپنی جگہ پر پورے زور اور قوت کے ساتھ آئندہ انتخابات میں