تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 263
۲۵۷ کیا یہ شخص تو ہم سے بھی بڑھ کر صفائی سے انہیں متنبہ کرتا ہے۔اسما نیام حکومت کی عادت سے کا نفرنفیس کے اعزاز میں CLARIDGES - HOTEL میں شام کے کھانے کی دعوت مقیم حکومت کی طرف سے CRANBOURNE 'Marquiss oF SALISBURY LORD ہو اس وقت LORD PRIYY SEAL تھے اور بعد میں اپنے والد کی وفات پر MAPau iss ہوئے، رمیز پانی کے فرائض سر انجام دے رہے رمیز تھے لیکن وزیر اعظم مسٹر چہ پھیل کے سوائے حکومت کے تمام اراکین بشمول نائب وزیر اعظم مسٹر انیلی اور لارڈ چانسلر لارڈ سائمن دعوت میں موجود تھے اور کھانے میں شامل تھے۔لارڈ کر کیبور نے مہمانوں کا جام صحت تجویز کرتے ہوئے COMMON WEALTH کی اہمیت کے بعض پہلوؤں کی وضاحت کی۔مہمانوں کی طرف سے میزبان کی تقریمہ کا نیم مزاحیہ جواب تو ایک کینیڈین مندوب مریا سٹینفورڈ نے دیا۔اور وہ ایک اخبار کے ایڈیٹر ہونے کے لحاظ ہے اس کے اہل بھی تھے اور سنجیدہ جواب دینے کی ذمہ داری مجھ پہ ڈالی گئی۔میری سہ پہر کی تقریر کا بہت پر چھا ہو چکا تھا اور توقع کی جاتی تھی کہ میں ہندوستان کی آزادی کے موضوع پر مزید کچھ کہوں۔دعوت میں جانے سے پہلے میں یہ بھی مشن چو کا تھا کہ ہندوستان کی آزادی میں تاخیر کی ذمہ داری تمامتر حکومت برطانیہ پر نہیں ڈالی جاسکتی۔کیونکہ ہندو مسلمان اختلامت کے پیش نظر حکومت برطانیہ بہت حد تک معذور گردانی جا سکتی ہے۔میں نے اپنی تقریر کے دوران میں آزادی کے موضوع پر کہا کہ محکومیت، برطانیہ ہند و مسلمان اختلافات کا عذر رکھ کر اپنی ذمہ داری سے گریز نہیں کر سکتی۔جنگ کے دوران میں برطانیہ بہت سی مشکلات کا حل دریافت کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔کیا ہندوستان کی آزادی ہی ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا حل در فرضیات کرنے سے برطانیہ عاجز ہے؟ بے شک یہ مسئلہ مشکل ہے لیکن برطانیہ کی تدبیر اس کا حل تجویز کرنے سے عابر نہیں آنی چاہئیے۔اگر ہندو مسلمان اختلافت ہی اس مسئلے کا حل تجویز کرنے کے رستے میں سب سے بڑی روک ہے تو برطانیہ اپنی نیک نیتی کا ثبوت اس طور پر پیش کر سکتا ہے کہ اس کی طرف سے یہ واضح اعلان کر دیا بجھائے کہ اگر فلاں تاریخ تک بند و سلمان اختلافات کا حل متنفقہ طور پر تجویز نہ ہوا تو برطانیہ اپنی طرف سے ایک قرین انصاف مل تجویز کر کے اس کی بناء پر سند دوستان