تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 9 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 9

۹ اور اُن کے حکم سے جاری کیا گیا ہے اور اس کی شکست کی زد آخر کار سوچ لینا چاہیئے کس کی ہمت اور قصد پر پڑتی ہے۔۔۔۔۔غرض سب سے اول اور بہت جلد مدرسہ کو جانگاہ فکر سے سبکدوش کریں اور کالج کے لئے عزم صمیم سے خط مستقیم پر قدم اُٹھائیں۔اسے ارحم الراحمین سمیع و بصیر مولی ! تو خود ان دردمندانہ فقروں کو پہلے قبول فرما اور پھر قوم کے دلوں میں انہیں جگہ دے کہ ساری توفیقیں تجھ ہی سے اور تیرے ساتھ ہیں کالج کے افتتاح کی نہایت طے شدہ پروگرام کے مطابق کالج کا انفتاح ۵ ار مئی ۱۹۰۳ ء کو مقدر تھا مگر حضرت مسیح موعود و مہدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام کی ساده گر پروقار دعائیہ تقریب مطبع مبارک علیل ہوگئی اور پرمبارک تقریب ۲۰ سی ۱۱۹۰۳ پر مئی ملتوی کر دی گئی۔اس روز و ۲۸ مئی ۱۹۰۳ء) ساڑھے چھ بجے کے بعد مدرسہ تعلیم الاسلام کے احاطہ اور پور ڈنگ مدرسہ کے درمیانی میدان میں ایک شامیانے کے نیچے جلسہ کا انتظام کیا گیا جو حضرت مفتی محمد صادق صاحب رضا پرنٹنڈنٹ مدرسہ و کالچ کی زیر نگرانی مدرسہ کے اساتذہ اور طالب علموں کی کوشش کا نتیجہ تھا۔سٹیج کے لئے شمالی جانب ایک عارضی چبوترہ بنایا گیا جہاں ارکان مدرسہ اور دوسرے بزرگوں کے لئے کر میاں بچھائی گئی تھیں۔جنوبی طرف ایک میز رکھی گئی جس کے اوپر دائیں جانب قرآن کہ نیم اور بائیں جانب کرہ ارض ( گلوپ LORE ہے) رکھا گیا۔میر کے سامنے طالب علموں کی ورزش جسمانی کے لئے ایک ستون کھڑا تھا۔اس موقعہ پر نہ کوئی دعوتی کارڈ جاری کئے گئے نہ اس میں کسی پارٹی کا اہتمام کیا گیا کیونکہ اس جلسہ کی اصل غرض تو صرف یہ تھی کہ سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام قدم رنجہ فرما کر دعا فرمائیں اور اگر حضور مناسب سمجھیں تو کالج کے اساتذہ اور طلبہ اور دوسرے حاضرین کو اپنے مقدس اور بابرکت ارشادات سے قوانیں اور حضر اقدین اس جلسہ میں بڑی خوشی کے ساتھ شریک ہونے کے لئے تیار بھی تھے ہے مگر رات کے وقت حضور کی طبیعت پھر نا سانہ ہو گئی۔ہر ایک پروفیسر اور مدرس اور لڑکے کی آنکھ خدا کے محبوب اور برگزیدہ حضرت مسیح موعود اخبار المحكم " قادیان سر فروری سنشاه صفحه ۲٫۵ : " که اختیار" الحكم قادیان ، ار اپریل سنده صفحه ، کالم ۳ و ۲۴ یون ۱۳ ارد صفحه ۱۰ کالم ۲+ سے اختیار الحكم قادیان ۲۴ جون ۲ صفحہ ۱۰ کالم ۹۳