تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 8
ہوتی یا آخر کار اس کے نابود ہو جانے کا اندیشہ ہے جو ہمیں اس کارخیر کی ٹھرک ہوئی ہے۔ابتدائی عمر کے جوش، فوری بوش اور ہنڈیا کے سے ابال ہوتے ہیں۔عمر کی لمبی رفتار میں اور دنیا کے ہر امتحان اور پر فتنہ نظاروں اور کاموں میں بسا اوقات ان میں سرد یا آجاتی اور ہر وقت امکان رہتا ہے کہ بالعوض بد تحریک اپنا کام کرے مگر کانچ کی چنگی سے نکل کر ایک عمدہ بھنگی اور مضبوط بصیرت رفیق طریق ہو جاتی ہے اور یقین مربیوں کے دلوں میں بھر جاتا ہے کہ ان کے برسوں کے اندوختہ اور محنت پر کسی بد معاش کا ہاتھ نہیں پڑ سکے گا۔فرض یہ تو بالکل عین مصلحت اور طے شدہ بات ہے کہ کالج ہو جب ہمارا مقصود پورا ہوتا ہے اور کالج کی تجویز پختہ بھی ہو گئی اور امید ہے آئندہ مٹی سے جاری بھی ہو جائے مگر خدا تعالے کی توفیق سے قوم کا یہ کام ہے کہ اس نیک کام میں دل کھول کر شریک ہوں۔کالج کھولنے سے ایک سال تک تو کوئی زائد خرچ نہیں پڑے گا۔مولوی محمد علی صاحب ایم۔اسے ریاضی پوتین کے اور وہ ریاضی میں مسلم ہیں۔ماسٹر شیر علی صاحب بی۔اے ہو انگلش میں بالخصوص قابل ہیں انگریزی پڑھائیں گے۔حضرت مولوی نورالدین صاحب با قاعدہ ایک گھنٹہ کالج میں دینیات کے تعلیم ہوں گے اور خاکسار را قم بھی ایک گھنٹہ با قاعدہ عربی کی تعلیم دے گا۔اور یہ تینوں معلیم بالا کسی دنیوی اجرت کے کالج کو مدد دیں گے اور دوسرے سال صرف پچاس روپے کا زیادہ بار ہو گا۔اگر مدرسہ کی امداد میں وہی پہلا جوش ہوتا ہو ایک عرصہ تک قائم رہا تو اتنی ہی امداد اور آمدنی ایت۔اے تک کالج بنانے میں بھی کافی تھی۔مگر افسوس بہت لوگوں نے بے توجہی کی اور ان کے جوشوں میں سردی پیدا ہوگئی۔بہت سے شہر ہیں کہ ان سے کچھ بھی اعداد اب تک مدرسہ کو نہیں پہنچی۔اور بعض ایسے ہیں کہ اُن سے نا قابل اعتداء مدد ملتی ہے۔سیالکوٹ اور لاہور دو شہر ہیں جنہوں نے اس کام میں پوری فیاضی سے حصہ دیا ہے اور ایک معقول رقم ماہ یماہ ان کی طرف سے مدرسہ کو ملتی ہے۔مگر اکثر شہر بعض غلط فہمیوں یا نا عاقبت اندیشی کے سبب سے اس کی طرف سے پہلو تہی کئے بیٹھے ہیں اور وہ اس طرح روا رکھتے ہیں کہ مدرسہ کو خدانخواستہ کوئی صدمہ پہنچے اور اعدائے ملت کو شماتت کا عمدہ موقعہ ملے۔ہر ایک شخص کو ثوب ذہن نشین رکھنا چاہیے کہ یہ مدرسہ حضرت کا مدرسہ ہے