تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 218
۲۱۲ مولوی فاضل تھے منتظم مکانات کے دفاتر مدرسہ احمدیہ اور بورڈنگ تحریک بعدید میں تھے۔پہرہ کے انچالنج شیخ نیاز محمد صاحب تھے۔اور قصر خلافت اور مسجد مبارک میں ملاقات کے وقت ان کے علاوہ میاں عظام محمود است اختر بھی ڈیوٹی پر ہوتے تھے۔اس سال بھی لوائے احمدیت جلسہ گاہ میں سٹیج کے شمال مشرقی جانب ایک بلند پول پر جلسہ کے ایام میں لہراتا رہا۔جلسہ گاہ کے قریب خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ کے کیمپ بھی موجود تھے۔طبی انتظام کے لئے نور ہسپتال دن رات کھلا رہتا تھا اور ایک ڈاکٹر اور کمپاؤنڈر ہر وقت موجود رہتے تھے۔انچارج حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خاں صاحب تھے جن کے ساتھ ڈاکٹر مہر دین صاحب، ڈاکٹر ظفر حسن صاحب، ڈاکٹر رحیم بخش صاحب ، صاحبزادہ ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب ، صاحبزادہ مرزا بشر احمد صاحب ، ڈاکٹر عبدالطبیعت صاحب، ڈاکٹر محمد احمد صاحب ( ابن حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خال صاحب) اور لیڈی ڈاکٹر غلام فاطمہ صاحبہ نے کام کیا۔علاوہ ازیں دور ڈسپنسریاں بورڈنگ ستحریک جدید کے مشرقی گیٹ اور بورڈنگ مدرسہ احمدیہ میں کھولی گئیں۔پہلی کے انچارج ڈاکٹر احمد دین صاحب اور ڈاکٹر عبد الرؤف صاحب اور دوسری کے ڈاکٹر محمد احمد صاحب اور ڈاکٹر بشیر احمد صاحب شاد تھے۔جلسہ میں احمدیوں کے علاوہ غیر احمدی اور غیر مسلم اصحاب نے بھی شرکت کی۔جن غیر مسلموں کے کھانے کا انتظام جلسہ کے انتظامات کا حصہ تھا ان کی تعداد 4۳ تھی بلے جا کے دوران ایک ناخوشگوار واقع اور حفت امیر المومنین اس جلس میں ایک ناخوشگوار واقعہ کبھی ہوا۔اور وہ یہ کہ بعض مخالفین کی طرف سے آنحضرت کی ایک دُعا پڑھنے کا ارشاد احمدیت نے مین جلسہ کے ایام میں (۲۵ فتح اوسمبر) کو بعض گزرگاہوں پر لاوڈ سپیکر لگا کہ حضرت سید نا المصلح الموعود اور جماعت احمدیہ کے متعلق نہایت بد زبانی اور درشت کلامی کا مظاہرہ کیا اور غلیظ گالیاں دینے سے بھی دریغ نہ کیا مگر حضرت سيدنا الصلح الموعود نے اپنی دوسری تقریر میں دوستوں کو نہایت پیار اور محبت کے لب لہجہ میں فرمایا :- ہمارے دوستوں کو یہ بات کبھی نہیں بھولنی چاہئیے کہ خدا تعالے کی بنائی ہوئی جماعتیں ہوتی ہی گالیاں کھانے کے لئے ہیں۔اگر ہمیں گالیاں نہ ملیں تو دوسروں کو حق پہنچتا ہے کہ 02 کہیں کہ اگر تم صداقت پر ہو تو تمہارے ساتھ وہ سلوک کیوں نہیں ہوتا جو ہمیشہ سے خدا تعالے کی الفضل " يكم تصليح ابجنوری ما در بین صفر ۶۰۰ * حالا ما