تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 198 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 198

۱۹۲ ذکر نہ کریں جو براہ راست دیدوں یا سناتن دھرم کے لڑ پھر کے متعلق ہوں جس حد تک میرے پاس مضمون آچکا ہے اور غالباً اکثر آچکا ہے اس کو دیکھ کر میں نے اندازہ لگایا ہے کہ بہت محنت اور جانفشانی سے لکھا گیا ہے، اسے سیدنا المصلح الموعود کس با یک نظری اور محققانہ انداز میں ان مسودات پر نظر ثانی فرماتے اور ان پر تنقید کرتے تھے اس کی چند مثالیں درج کرنا خالی از فائدہ نہ ہوں گی تا معلوم ہو کہ آپ کن خطوط پر جواب لکھوانا چاہتے تھے۔ستیارتھ پرکاش کے چوتھے سمول اس (متعلقہ خانہ داری کا جواب حضور نے مہاشہ محمد عمر صاحب فاضل کے سپرد فرمایا تھا۔تہاشہ صاحب نے حضور کی خدمت میں جب اپنا لکھا ہوا مسودہ پیش کیا تو حضور نے ان پر علاوہ اور ریمارکس دینے کے اپنے قلم مبارک سے مندرجہ ذیل نوٹ لکھیے :- " ان الفاظ کو نرم کیا جائے اور دلیل کو واضح۔اس مضمون کو زور دار بنایا جا سکتا ہے " اس پہ بار بار زور دیا جائے کہ پنڈت صاحب کھڑے تو ہندو دھرم کی تائید کیلئے ہوئے ہیں۔لیکن اپنے خود ساختہ خیالات کو پیش کر کے انہوں نے اپنے مذہب کو رائج کیا ہے" ہم کو صرف دیر پر زور دینا چاہیے۔آریہ سماج کا دھوئی ہے دید مکمل ہیں۔پھر دوسری طرف ان کو بجانے دینے کا موقعہ دینا درست ہی نہیں" دیکھیں اگر ایک نی ہزار مثالیں بھی اس کی آریہ سماج دے تو اُسے دس ہزار روپیہ انعام دیا بچائے گا۔جو تعلیم اول خود ساختہ ہے۔وید میں اس کا نام و نشان نہیں۔دوم اس پہ ایک فی ہزار آریہ سما جی بھی عمل کرنے کے لئے تیار نہیں۔اسے عالمگیر قرار دینا اور دنیا کی مشکلات کامل قرار دینا کیسی دیدہ دلیری کی بات ہے " افسوس ! تقسیم ملک کی وجہ سے ستیارتھ پرکاش کے جواب کی یہ کوشش درمیان ہی میں رہ گئی۔تیسری بار تقسیم کے شروع ہونے سے قبل دوسری جنگ عظیم بھی پورے زور شور سے جاری تھی کہ تبلیغ اسلام کی سرگرمیاں تیز تر کرنے کی لی اور بین الصلح المرور نے اور تو اترتی ہے ابھی حضرت سید تبوک تیز تر تلقی کو ایک خاص خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا جس میں بتایا کہ جنگ کے بعد دنیا پھر ایک فلم کا بیج بونے والی ہے ہمیں اس غلطی کو واضح کرنے اور اسلام کو پھیلانے میں دیوانہ وار ل الفصل " در تبلیغ / فروری ۳۲۳ به بش صفحه 1