تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 190
IAM میں ہی فوت ہوئیں۔اللہ تعالٰی کے الہامات فضول نہیں ہوتے۔خالی یہ خبر دینا کہ ایک افسوسناک خیر آئی بغیر ایسے قرینے کے جس سے معلوم ہو سکے کہ وہ خیبر کس کے متعلق ہے ؟ کس قسم کی ہے ؟ بالکل بے معنی ہو جاتا ہے۔لیکن جب ہم یہ امر دیکھیں کہ یہ سلسلہ الہام ہے۔پہلے پسر موعود کے ظہور کا ذکر ہے، پھر دشمنوں کے شور کا اور ان کی ناکامی کا ، پھر ایک افسوسناک خبر کا جس کا نتیجہ یہ پیدا کیا ہے کہ بہتر ہوگا کہ ایک اور شادی کرلیں تو ان الہامات سے صاف پتہ چلتا ہے کہ انسوی خیر کسی کی بیوی کی وفات کی خبر ہے۔کیونکہ اگلا الہام کسی مرد کی نسبت کہتا ہے کہ بہتر ہے کہ اور شادی کرلیں۔پس افسوسناک خبیر سے مراد اس شخص کی بیوی کی وفات ہی ہو سکتی ہے۔اور چونکہ اس سلسلہ الہامات میں پسر موجود کے سوا کسی اور مرد کا ذکر نہیں۔اس لئے یہ بھی ظاہر ہے کہ یہ فوت ہونے والی بیوی پسر موعود کی بیوی ہوگی جو پسر موجود کے دعوے کے قریب زمانہ میں لاہور میں فوت ہوگی۔ان تمام الہامات کو پڑھنے کے بعد اور یہ دیکھ کر کہ ادھر مجھ پر اس پیشگوئی کے میری ذات میں پورا ہونے کا انکشاف ہوا ، ادھر پیغامیوں نے پورے جوش کے ساتھ ملے شروع کر دیئے۔پھر ام طاہر کی وفات واقعہ ہوئی۔میں نے سمجھا کہ شاید میرا یہ نتیجہ نکالنا کہ چوں کو کسی اور بیوی کے سپرد نہ کرنا چاہیے صحیح ہے اور اللہ تعالے کا منشاء یہ معلوم ہوتا ہے کہ اور شادی کرنا بہتر ہو گا۔تب میرا ذہن اس طرف گیا کہ جو دوسری بیوی بھی آئے گی بچھے اُسے غیر سمجھیں گے اور مرحومہ کے رشتہ دار بھی اس کے پاس نہیں آسکیں گے۔اور اس طرح بچوں کو دیکھ نہ سکیں گے جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ان میں سے جو کمزور ہوں گے وہ اس کے ساتھ وہی سلوک کریں گے جو مریم مرحومہ کے ساتھ امتدائی مرحومہ کے بعض رشتہ داروں نے کیا تھا۔اس کا جواب کچھ دن تک میں نہ دیکھ سکا۔اتفاقاً ایک روز میں نے تذکرہ سے خال دیکھی میں خال کا قائل تو نہیں۔مگر مصیبت کے وقت بعض دفعہ انسان ان باتوں کی طرف بھی توجہ کر لیتا ہے جن کا وہ قائل نہیں ہو تابیث طیکہ وہ نا جائز نہ ہوں۔میں نے تذکرہ کھولا تو اس میں لفظ "بشرى" موٹے حروف میں لکھا ہوا نظر آیا۔اس وقت مجھے معلوم نہیں کہ وہ کونسا صفحہ تھا۔اُسے دیکھ کہ میرا ذہن اس طرف گیا کہ میر محمد اسحق صاحب مرحوم کی لڑکی کا نام بشر کی ہے مگر اس سے تو