تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 170 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 170

۱۶۵ پھر ء میں جب میں اپنی بیگم کی بیماری کی وجہ سے اُن کے علاج کے لئے دہی گیا ہوا تھا۔اچانک ایک دن ڈاک میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا خط مجھے ملا کہ یہاں قادیان میں ایک کالج کھولنے کا فیصلہ ہوا ہے اور حضرت صاحب نے تمہیں اس کا لچ کا پرنسپل مقرر فرمایا ہے۔میں بڑا پریشان ہوا۔کہ پہلے میں عربی قریب بھول چکا تھا تو مجھے جامعہ میں لگا دیا گیا۔جب میرا ذہن کلی طور پر اس چیز کی طرف متوجہ ہو چکا ہے تو مجھے وہاں سے ٹرانسفر کر کے ایک انگریزی ادارے کا پرنسپل بنا دیا گیا ہے۔اس وقت ابھی صرف انٹر میڈیٹ کالج تھا۔خیر خدا تعالیٰ سے ڈھا کی کہ وہ اس ذمہ داری کو بھی نبھانے کی توفیق دے اور ہماری کوششوں میں برکت ڈالے۔ابتدلو بالکل چھوٹے سے کام سے ہوئی۔اس جماعت پر اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس میں جو ساتھی ملتے ہیں وہ بڑے پیار سے کام کرنے والے اور تعاون کرنے والے ہوتے ہیں۔گو بہت سے میری طرح بالکل RAW (عام) تھے۔میں اس وجہ سے RAW تھا کہ اس میدان سے بالکل ہٹ چکا تھا اور عربی کی طرف متوجہ ہو چکا تھا۔اور اکثر ان میں سے وہ تھے جو ایم۔اسے پاس کرتے ہی وہاں آگئے تھے جنہیں کوئی تجربہ نہ تھا۔باقی سب RAW ہی تھے۔ہم نے جو کوششیں کیں وہ تو کیں ، ہمارے جو وسائل تھے شاید آپ ان کا اندازہ بھی نہیں کر سکتے۔ایک چھوٹی سی مثال سے اس کو واضح کر دیتا ہوں۔وہ یہ کہ ایک لیے عرصہ تک پرنسپل کے دفتر کے سامنے بچی بھی نہ تھی۔دروازہ یونہی کھلا رہتا تھا۔پھر ان چھتوں کے حصول کے لئے محترم قاضی محمد اسلم صاحب کو پیش سفارش کرنی پڑی۔تب جا کر اس دفتر کو چھتیں نصیب ہوئیں اور ایک حد تک اطمینان اور پرائیویسی جو کام کرنے کے لئے ضروری ہوتی ہے ہمیشتر آئی۔پھر مالی لحاظ سے بھی تعدا تعالے کا میرے ساتھ عجیب سلوک رہا ہے کہ میں نے کبھی نہیں سوچا وہ اور نہ دیکھا اور نہ بہتر کیا کہ ہمارے کھاتوں میں کتنی رقم ہے ہمیشہ یہ سوچا کہ جو خرچ آپڑا ہے ضروری ہے کہ نہیں اور اس شرح میں کوئی فضول خرچی تو نہیں۔نا جائز حصہ تو نہیں۔اگر جائز ضرورت ہوتی تو پھر یقین ہوتا کہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر رحم کرتے ہوئے اس بجائز ضرورت کو پورا کرنے کی ذمہ دار لی ہوئی ہے۔پھر جب سال گذرتا، حساب کرتے تو ساری رقوم ایڈ جسٹ ہو جائیں اور کبھی فیکریا تردد کرتا نہیں پڑا۔ورقہ یہ کالج جس میں آپ اس وقت بیٹھے ہیں کبھی نہ بنتا۔