تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 169 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 169

147 سو سولیکچر دیتے تو میں چالیس پچاس سے زیادہ لیکچر نہ دے سکتا تھا۔شاید کچھ اپنی غفلت کی وجہ سے اور کچھ اپنی دیگر ذمہ واریوں کی وجہ سے۔بہر حال یہ ایک حقیقت ہے کہ اس کے حضور دعائیں کرنے کی وجہ سے یہ اللہ تعالے کا فضل رہا ہے کہ جو پر پھر میں پڑھاتا رہا ہوں (اکنامکس اور پولٹیکل سائنس پڑھائے ہیں) اس کے بڑے اچھے نتائج نکلتے رہے ہیں۔ایک کلاس میری ایسی تھی کہ جین کے متعلق ایک دفعہ مجھ پر یہ اثر ہوا کہ میں نے کچھ حصے ان کو صحیح رنگ میں نہیں پڑھائے اور اس میں طلبہ کمزور ہیں۔امتحان سے پندرہ بیس دن پہلے مجھے خیال آیا کہ ایک عنوان ایسا ہے کہ اگر میں اس کے متعلق ان کو نوٹ تیار کر کے دے دوں تو خدا کے فضل سے یہ طلبہ بڑا اچھا نتیجہ نکال لیں گے چنانچہ میں نے ایک نوٹ تیار کیا اور کوشش کر کے میں نے خود طالب علموں کے پاس پہنچایا اور ان کو کہا کہ اس کو یاد کر لو بچنا نچہ جب پر چھہ آیا تو اس میں تین سوال ایسے تھے جو میرے اس نوٹ کے ساتھ تعلق رکھتے تھے اور چونکہ وہ مختصر اور کمپری ہینسیو (مکمل) تھا اور تازہ تازہ ان کے ذہن میں تھا۔اس لئے میرا خیال ہے کہ اس سال نصف سے زیادہ طلبہ نے اس پر چہ میں فرسٹ ڈویژن حاصل کیا۔اس طرح اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا۔پس میرے اپنے سارے زمانہ میں یہ تجربہ رہا ہے کہ جب ہم اپنے رب کی طرف عاجز بھی اور انکاری کے ساتھ جھکتے ہیں تو وہ اپنے فضل اور رحم کی بارشیں ہم پہ کرتا ہے۔ہمارا خدا بخیل نہیں بلکہ بڑا دیا لو ہے۔اگر کبھی ہم کامیاب نہیں ہوتے تو اس کا سبب صرف یہ ہوتا ہے کہ ہم بعض دفعہ لا پروائی سے کام لیتے ہیں اور اس کی طرف جھکنے کی بجائے دوسرے دروازوں کو کھٹکھ اپنے کی کوشش کرتے ہیں اور وہ دروازے کھولے نہیں جاتے۔تو اس زمانہ میں جب میں جامعہ میں تھا میں نے اپنا دل اور دماغ اس ادارے کو دے دیا تھا اور بڑی محنت سے اس کی نشو و نما کی طرف توجہ کی تھی۔اور اس زمانہ میں جب میں نے حسب لگایا تو مجھے اس بات سے بڑی خوشی ہوئی کہ پہلے یا دوسرے سال جیتنے جامعہ احمدیہ کے واقفین زندگی تبلیغ اسلام کے میدان میں اُترے اس سے پہلے پانچ یا سات سال کے طلبہ کی مجموعی تعداد بھی اتنی نہ تھی۔اور اس زمانہ کے بہت سے طالب علم ہیں جو اس وقت تبلیغی میدان میں کام کر رہے ہیں۔