تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 168
کے فرزند جلیل حضرت مسیح موعود و مہدی مسعود علی الت لام کی بیت الدعا والی دعاؤں کی قبولیت کا زیر دست نشان ہے جو رہتی دنیا تک قائم رہے گا۔مگر ان دعاؤں کی تاثیرات کو کھینچ لانے میں سیدتنا المصلح الموعود رضی اللہ کی راہنمائی ، روحانی توجہ اور قوت قدسیہ کے ساتھ ساتھ حضرت صاحبزادہ صاحب ایدہ اللہ تعالے کی اُمی درد و سوز میں ڈوبی ہوئی دُعاؤں کا بھی یقیناً بھاری دخل ہے جو آپ ہمیشہ اس درسگاہ کے لئے کرتے رہے اور جن کے نتیجہ میں قدم قدم پر خدائی نصرتوں اور برکتوں کا ظہور ہوا۔اور جن کا ایمان افروز مختصر ساتھ کہ حضرت خلیفہ المسیح الثالث ایک اللہ تعالے کی زبان مبارک سے اس آخری فصل میں کیا جاتا ہے۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ۲۵ نبوت / نومبر پر میش کو اساتذہ و طلبہ تعلیم الاسلام کا رچ کو خطاب کر تے ہوئے ارشاد فرمایا :- میں اس درسگاہ سے قبل مختلف دوروں سے گزرا ہوں۔طالب علمی کے زمانہ میں پہلے میں نے قرآن کریم حفظ کیا۔پھر دینی اور عربی تعلیم حاصل کی اور پھر دنیوی تعلیم کے حاصل کرنے کی کوشش کی گورنمنٹ کالج میں پڑھا۔پھر انگلستان گیا اور آکسفورڈ میں بھی پڑھا۔جب میراتعلیمی زمانہ ختم ہوا اور میں انگلستان سے واپس آیا تو حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے جامعہ احمدیہ میں بطور استاد لگا دیا۔اس وقت مجھے عربی تعلیم چھوڑے قریباً دس سال کا عرصہ گذر چکا تھا۔اس لئے میرے دماغ نے کچھ عجیب سی کیفیت محسوس کی۔کیونکہ وہ علوم بتو میرے دماغ میں اب تازہ نہیں رہے تھے وہی علوم مجھے پڑھانے پر اب مقرر کر دیا گیا اور میں نے دل میں کہا کہ اللہ شیر کرے اور مجھے توفیق دے کہ میں اپنی ذمہ واری کو صحیح طور پر تباہ سکوں۔تھوڑے ہی عرصہ کے بعد مجھے جامعہ احمدیہ کا پرنسپل بنا دیا گیا۔اس وقت مجھے اللہ تعالیٰ کے پیار اور حسن کا عجیب تجربہ ہوا اللہ تعالیٰ نے یہ فضل کیا کہ میری کلاس جب پہلی دفعہ یونیورسٹی میں گئی تو جہانتک مجھے یاد پڑتا ہے سارے کے سارے طلبہ پاس ہو گئے۔اس وقت مجھے اپنے رب کی قدرتوں کا مزید یقین ہوا۔اور میں نے سمجھا کہ علوم کا سیکھنا اور سکھانا بڑی حد تک اللہ تعالیٰ کے فضل پر منحصر ہے اور کمزور انسان ہونے کی حیثیت سے ہماری کوششوں میں جو کمی رہ بھاتی ہے اس کی کمی کو ہم اپنی دعاؤں سے پورا کر سکتے ہیں۔یہ تجربہ ر آمنہ سے اب تک مجھے رہا ہے۔آپ جانتے ہیں کہ اس کا لج میں بھی سب سے کم لیکچر دینے والا میں ہی تھا۔اگر دو مگر اساتذہ