تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 158
۱۵۴ ان اہم مجالس کے قیام کے پیچھے کیا جذبہ کار فرما تھا؟ اس کی تفصیل خود آپ ہی کے الفاظ میں لکھی جاتی ہے۔فرماتے ہیں :۔تحصیل علم کے لئے مندرجہ ذیل چار باتیں ضروری ہیں۔اول علمی باتوں کا غور سے سننا ، دوم علمی باتوں کے سمجھنے اور اپنانے کی کوشش کرنا ، ستوم ان میں سے جو باتیں بظاہر عقل کے خلاف نظر آئیں اُن پر تنقید کرنا اور چہارم نا قابل تسلیم نظریوں کے مقابل اپنے تحقیقی نظرئیے پیش کرنا یعنی سنے مجھے تنقید اور تحقیق کرنے کے بغیر صحیح علم حاصل نہیں کیا جا سکتا۔پہلے دو کام کلاس دوم میں کئے جاتے ہیں جہاں نظم و ضبط کی پابندی از بس ضروری ہے لیکن اگر ہمارا نصب العین محمق یہ ہو کہ سنو اور قبول کرو تو ہماری آئندہ نسل اند می کند ذہن ہو گی۔مذکورہ نصب العین پر ہمیں یہ اضافہ کرنا پڑے گا کہ پرکھو اور تحقیق کرد۔اور تحقیق و تنقید کے لئے کلاس روم سے باہر بھی علمی مشاغل کا ہونا ضروری ہے اور اسی لئے درسگاہوں میں مختلف علمی مجالس قائم کی بجاتی ہیں جن میں سے اہم ترین مجلس کا لج کی عمومی مجلس ہے جہاں طلبہ اپنی آراء کا آزادانہ اظہار کرتے ہیں " کھیوں کی سرپرستی چوہدری محمد علی صاحب ایم۔اسے تحریر کرتے ہیں :- کی کیونکہ سپورٹس کی ایسوسی ایشنیں اعلیٰ سطح پر آپ کی خدمت میں پہنچتیں کہ صدارت قبول فرمائیں تاکہ امن کی فضا قائم ہو۔آپ پنجاب بیڈ منٹن ایسوسی ایشن کے صدر کٹی سال رہے۔مغربی پاکستان کے بیڈ منٹن کے مقابلے کالی ہال میں ہوا کرتے۔پھر آپ جیسا کہ ذکر آ ہوچکا ہے باسکٹ بال کی سنٹرل زون کے صدر بنے۔دیگر کھیلوں کو بھی آپ کی سرپرستی حاصل رہی فٹ بال ، کرکٹ ٹینس ٹیبل ٹینس تو آپ خود نہایت عمدہ کھیلتے تھے اور اساتذہ اور طلباً کے میچوں میں خصوصاً ہوسٹل ٹیبل ٹینس کے میچوں میں حصہ لیتے رہے۔روٹنگ اور باسکٹ بال کو آپ نے بام عروج تک پہنچا دیا۔ہائیکنگ میں آپ بے حد دلچسپی لیتے رہے، پنجاب ماؤ نیرنگ کلب اور یونیورسٹی کی ماؤنٹینگ کلب جس کے صدر مرحوم ڈاکٹر بشیر وائس چانسلر تھے پارٹیشن کے بعد دونو کے دستور بنانے میں آپ کے خاص مشور سے شامل تھے اور عملاً آپ ان کے زائر نور ممبر ہیں۔لیکن دونوں کلیوں سے کوئی براہ راست رابطہ قائم نہ رہ سکا۔البتہ آپ ہائیکنگ مانیٹر نگ امیر ہوتے ہاسٹلنگ کی ہر آن حوصلہ افزائی فرماتے رہے۔مرحوم چو ہدری لطیف کے نے رسالہ "المسار" بابت ماہ احسان جون صفحه ۱۲ - ۱۵ : اور