تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 133 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 133

۱۲۹ بجائے پاکستان بھر کے دس منتخب کھلاڑی شامل ہوئے۔علاوہ ازیں بعض ایسے کھلاڑیوں نے بھی شرکت کی جنہیں بیرونی ممالک میں پاکستان کی نمائندگی کا فخر حاصل تھا۔اس ٹورنا منٹ کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ پنجاب باسکٹ بال ایسوسی ایشن راہوں کے فیصلہ کے مطابق پنجاب کی بہترین ٹیم کا انتخاب اس ٹورنا منٹ میں ہوا۔قبل ازیں اس انتخاب کے لئے الگ مقابلے ہوتے تھے۔تیسرا ٹورنمنٹ اپنی منفرد حیثیت کے لحاظ سے بڑی اہمیت کا حامل ثابت ہوا۔ملک کے کونے کونے سے دو درجن کے قریب بہترین تمہیں اور مشہور ترین کھلاڑی شامل ہوئے تین میں سی۔ٹی آئی کلب سیاللہ کے تین امریکی بھی تھے۔اس موقعہ پر بہت سے کالجوں کے پروفیسر اور دیگر معززین بھی بکثرت موجود تھے۔ہر سال یہ سوال پیدا ہوتا تھا کہ ٹورنامنٹ کا افتتاح کس سے کر وایا جائے باتیسرے ٹورنامنٹ کے موقعہ پر جب یہ معاملہ پر و فیسر نصیر احمد خاں صاحب نے حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب پرنسپل کالج کی خدمت میں پیش کیا تو آپ نے قدرے قاتل کے بعد فرمایا ایک BRAIN WAYE یعنی خیال کی اہر آئی ہے اور مسلم مل ہو گیا ہے۔انہوں نے عرض کیا۔کیسے؟ فرمایا۔پچھلے ٹورنامنٹ کی فاتح ٹیم کے کپتا سے افتتاح کر وا لو اور آئندہ یہی ہماری روایت ہوگی بچنا نچہ اس سال سے لے کر اب تک اسی پر عمل ہو رہا ہے۔اس روایت کی ابتداء ریلوے ٹیم کے کپتان سید جاوید حسن سے شروع ہوئی جو پچھلے سال کے ٹورنا منٹ کے فاتح تھے۔پوتھا آل پاکستان باسکٹ بال ٹورنامنٹ کبھی ہر لحاظ سے کامیاب رہا۔اس موقع پر پہلی بار ایک یاد گاربی مجلہ (SOUVENIR) شائع کیا گیا جس میں مختلفت معترفین کے خیر سگالی کے پیغاما اور تصاویہ کے علاوہ ربوہ میں باسکٹ بال کے اجزاء اور ترقی کا جائزہ لیا گیا تھا پاکستان ٹائمز“ (لا ہوں "سول اینڈ ملٹری گزٹ (لاہور) ، "نوائے وقت" (لاہور) ، " امروز (لاہور) اور الفصل گریوه) نے نمایاں طور پر اسکی ٹورنا منٹ کی خبریں شائع کیں۔1941 ه ش یعنی پانچ سال کے قلیل عرصہ میں ربوہ کے چھوٹے سے قصبہ میں گلی آٹھ باسکٹ بال کورٹس اور سات باسکٹ بال کلب چین کا مرکزی باسکٹ بال ایسوسی ایشن لاہور سے باقاعدہ الحاق تھا قائم ہو چکے تھے۔ان سب کلیوں نے علاوہ بیرونی کلبوں کے چوتھے ٹورنامنٹ میں شمولیت کی۔اسی سال کالج کے پیار منتخب کھلاڑیوں نے پنجاب کی طرف سے قومی مقابلوں میں حصہ لیا۔