تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 100
۱۰۰ میں اُن نوجوانوں کو جو تعلیم سے فارغ ہو کہ اپنی زندگی کے دوسرے مشاغل کی طرف مائل ہونے والے ہیں، کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے قانون کے مطابق سکون کے حاصل کرنے کی بالکل کوشش نہ کرو بلکہ ایک نہ ختم ہونے والی جد و جہد کے لئے تیار ہو بھاؤ اور قرآنی منشاء کے مطابق اپنا قدم ہر وقت آگے بڑھانے کی کوشش کرتے رہو اور اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے رہو کہ وہ آپ کو صحیح کام کرنے اور صحیح وقت پر کام کرنے اور صحیح ذرائع کو استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور پھر اس کام کے صحیح اور اعلیٰ سے اعلیٰ انت لیے پیدا کرے۔یاد رکھو کہ تم پر صرف تمہارے نفس کی ہی ذمہ داری نہیں۔تم پر تمہارے اس ادارے کی بھی ذمہ واری ہے جس نے تمہیں تعلیم دی ہے اور اس خاندان کی بھی ذمہ داری ہے جس نے تمہاری تعلیم پر خر کیا ہے خواہ بالواسطہ یا بلا واسطہ، اور اس ملک کی بھی ذمہ داری ہے جس نے تمہارے لئے تعلیم کا انتظام کیا ہے اور پھر تمہارے مذہب کی بھی ذمہ واری ہے۔تمہارے تعلیمی ادارے کی جو تم یہ ذمہ واری ہے وہ چاہتی ہے کہ تم اپنے علم کو زیادہ سے زیادہ اور اچھے سے اچھے طور پر استعمال کرد۔یونیورسٹی کی تعلیم مقصود نہیں ہے وہ منزل مقصود کو طے کرنے کے لئے پہلا قدم ہے۔یونیورسٹی تم کو جو ڈگریاں دیتی ہے وہ اپنی ذات میں کوئی قیمت نہیں رکھتیں بلکہ اُن ڈگریوں کو تم اپنے آئندہ عمل سے قیمت بخشتے ہو۔جاگری صرف تعلیم کا ایک تخمینی وزن ہے۔اور ایک تخمینی وزن ٹھیک بھی ہو سکتا ہے اور غلط بھی ہو سکتا ہے۔محض کسی یونیورسٹی کے فرض کر لینے سے کہ تم کو علم کا ایک تخمینی همزمان حاصل ہو گیا ہے تم کو علم کا وہ فرضی درجہ نصیب نہیں ہو جاتا جس کے اظہار کی یونیورسٹی ڈگری کے ساتھ کوشش ہوتی ہے۔اگر ایک یونیورسٹی سے نکلنے والے طالب علم اپنی آئندہ زندگی میں یہ ثابت کریں کہ جو تینی وزن ان کی تعلیم کا یونیورسٹی نے لگایا تھا ان کے پاس اُس سے بھی زیادہ وزرین کا ظلم موجود ہے تو دنیا میں اس یونیورسٹی کی عزت اور قدر قائم ہو جائے گی۔لیکن اگر ڈگریاں حاصل کرنے والے طالب علم اپنی بعد کی زندگی میں یہ ثابت کر دیں کہ تعلیم کا جو نینی دزن ان کے دماغوں میں فرض کیا گیا تھا ان میں اس سے بہت کم درجہ کی تعلیم پائی جاتی ہے تو یقیناً لوگ یہ تیجہ نکالو گے کہ یونیورسٹی نے علم کی پیمائش کرتے میں غلطی سے کام لیا ہے۔پس تمہیں یاد رکھنا چاہئیے کہ یونیورسٹیاں اتنا مطالب علم کو نہیں بنائیں جتنا کہ طالب عسلیم