تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 98
۹۸ رکھتا ہے۔اس میں شک نہیں کہ اس میں ان طلباء کی بھی خوبی تھی یعنی دونو کا لجوں کے طلباء کی کہ اُن کے تعلقات انتہائی طور پر خوشگوار تھے۔پہلے رسالہ المنار کا اجراء حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر حمد صاحب پر سیل تعلیم اسلام کالج کی سرپرستی رسالہ المنار کا اجراء میں کے کسی سوسائٹی کے زیر اہتمام ینگ اکانومسٹ کے نام سے ایک اکنامکس زیر کتابی سلسلہ بھاری کیا گیا۔ازاں بعد ماہ شہادت / اپریل یہ ہی سے کالج کا علمی مجلہ "المنار" کے نام سے شروع کیا گیا تو اب تک باقاعدگی سے شائع ہو رہا ہے اور ادبی اور علمی حلقوں میں خاص وقعت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔اُردو کے بعض پاکستانی اور یوں اور ناقدوں نے "المنار" کی قلمی سرگرمیوں کو سراہا ہے۔اور اسے اچھے ادبی ذوق کا آئینہ دار قرار دیا۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے "المنار" کے پہلے شمارہ کے لئے " نور کا نشان۔روشنی اور بلندی کا شعار کے عنوان سے ایک نہایت قیمتی مضمون سپرد قلم فرمایا جس میں علاوہ دوسری اہم نصائح کے یہ نصیحت بھی فرمائی کہ " ہمارے عزیزوں کو چاہیے کہ اپنے اس رسالہ کو صحیح معنوں میں المنارہ بنائیں یعنی وہ علم کے ہر میدان میں روشنی اور بندی کا نشان ہو۔ہر دوسرے کالج کی نظریں اس رسالہ کی طرف اُٹھیں اور وہ اس کے مضایی میں ہدایت اور تسلی کا سامان پائیں۔لکھنے والے محض مفاتہ چھری سے کام نہ لیں بلکہ محنت اُٹھا کر اور تحقیق کر کے دنیا کے سامنے سچا علم پیش کریں اور موجودہ علوم باطلہ سے ہرگز مرعوب نہ ہوں " " حضرت صاحبزادہ حافظ مرزا ناصر احمد صاحب نے اس موقعہ پر طلباء کے نام جو پیغام دیا وہ ہمیشہ آب زر سے لکھا جائے گا۔آپ نے تحریر فرمایا :- زندگی مسلسل جستجو کا نام ہے۔کلاس روم میں آپ پہلوں کی جستجو کے نتائج سنتے ہیں۔انہیں سمجھتے اور یا د رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ان نتائج پرتنقیدی نگاہ ڈالنے کا آپ کو موقعہ میسر نہیں آتا۔کلاس روم تخلیق کا میدان بھی نہیں۔مگر تنقید و تحقیق کے بغیر آپ کی زندگی بے معنی ہے ' پدرم سلطان بود' آپ کو زیب نہیں دیتا۔دنیا کو جس حالت پر آپ نے پایا اس سے بہتر حالت پر آپ نے اُسے چھوڑنا ہے۔کالج میگرین تنقید و تحقیق کا ایک وسیع میدان آپ کے سامنے کھولتا ہے۔اب آپ رضی ہے کہ ہر ہے فائدہ اٹھائیں دورہ ایہا سے بنا کو رکھیں عقل سلیم سے اسے بریک ہیں۔ذہن رسا سے اس کی شیر در یافت و دبیر ته المتار شہادت / ایمیل مش صفحه : ن 4190