تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 97
اور کا بچوں کی اہرام میں تسلیم الاسلام کا لج کا نام عزت اور احترام سے لیا جانے لگا تھا۔لاہور کے کالجوں کا عام طالب علم جانتا تھا کہ پریسی تعلیم الاسلام کا لج کس بلند مرتے اور کیریکٹر کے انسان ہیں۔دوسرے کائیوں کے پرنسپلوں کی موجودگی میں شوخی کرنے والے حضور کے سامنے ادب سے گفتگو کیا کرتے تھے بحضور بھی خود تمام طلباء کو اپنا این طالب علم جانتے تھے اور ان کے جائز حقوق کی حفاظت فرمایا کرتے تھے اور یہ اکثر فرمایا کرتے کہ ہمارا طالب علم طبعا شریف ہوتا ہے۔عموماً خرابی اس کے HANDLINE میں ہوتی ہے۔الا ماشاء الله۔ایک دفعہ لاہور کے طلباء مجمع بنا کر تعلیم الاسلام کالج کے سامنے اکٹھے ہو گئے۔یہ کالجوں کو بند کرواتے پھر رہے تھے۔غالباً کسی غیر ملکی ظلم پر احتجاج ہو رہا تھا۔لڑکوں کو دیکھ کر حضور خود بنفس نفیس لڑکوں میں تشریف لے گئے اور چند منٹ اپنے دل آویز نیستیم کے ساتھ اُن سے گفتگو فرمائی۔لڑ کے قائل ہوئے اور پرنسپل ٹی آئی کا لج زندہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے چلے گئے ایک بار کشتی رانی کے فائنل پر جبکہ اسلامیہ کالج کی ٹیم آگے تھی اور ہم نمبر دو پر تھے اور دریا کے کنارے لاؤڈ سپیکر نصب تھا اور نعرے لگ رہے تھے۔اصل مقابلہ اسلامیہ کالج اور ٹی آئی کالج کے درمیان تھا۔ہمارا بھی سارا کالج پہنچا ہوا تھا۔کیونکہ سوائے دریا کے ہمارے پاس کوئی کھیل کا میدان نہیں تھا۔کشتیاں دریا میں جا چکی تھیں۔آخر میں جانے والی کشتیاں اسلا ہے کالج اور ہمارے کالج کی تھیں۔اسلامیہ کا ان کی کشتی بھی ایک چپور کے زور پر لہر میں داخل ہی ہوئی تھی کہ کسی بظاہر غیہ طالب علم نے جو ایسے مقابلوں میں حمایت کے لئے آجاتے ہیں تعلیم الاسلام کالج کے خلاف ایک نہایت نازیبا نعرہ لگایا جس کی آواز لاوڈ سپیدہ کے پر بھی ستائی دے گئی۔اچانک اسلامیہ کالج کی کشتی وہیں سے واپس مڑی۔ہم سمجھے کہ شاید فالتو چھتو بھول گئے ہیں لیکن ہوا یہ کہ کشتی کنارے لگتے ہی اسلامیہ کالج کی ٹیم کا کپتان عقاب کی طرح مجمع پر جھپٹا اور جس نے نعرہ لگایا تھا۔اس کو پکڑ لیا اور اعلان کیا کہ اگر تعلیم الا سلام کالج کے خلاف اس قسم کا بیہودہ نعرہ اب لگایا گیا تو ہم دوڑ نہیں دوڑیں گے۔یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے۔ایسے موقعوں پر جب جزیات مسابقت بر انگیختہ ہو کر عام قیود اور آداب کی پابندیاں ڈھیلی کر سکتے ہیں اس قسم کا مظاہرہ ایک تاریخی حیثیت