تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 93 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 93

۹۳ وار شہادت / اپریل کو اس پر قبضہ ملا اور پھر یہاں کا لج منتقل کر دیا گیا۔صوبہ کے اس نہایت مشہور اور عالیشان کاناج کا سارا سامان غیر مسلم پناہ گزینوں کے ہاتھوں بالکل غارت ہو چکا تھا یا ہندوستان پہنچ چکا تھا ستی کہ کسی میز، کرسی یا ڈیسک کا نام و نشان تک باقی نہ رہا تھا۔لیبارٹریوں میں ٹوٹی شیشیاں بکھری ہوئی تھیں اور گے علیہ کے ڈھیروں سے آٹے پڑے تھے۔اس خستہ سامانی کا اندازہ اس امر سے کیا جا سکتا ہے کہ محض کمروں اور لیبارٹریوں کی صفائی پر قریباً ستائیس سو روپیہ خرچ کرنا پڑائیے علاوہ ازیں لاکھوں روپے کے صرف سے کالج کو پھر سے بدید تجربہ گاہوں سے آراستہ کیا گیا۔فرنیچر تیاز کیا گیا اور لائبریری کا قیام عمل میں لایا گیا۔کھنڈرات پر کالج تو کس طرح آباد ہوا۔اس کا نقشہ حضرت صاحبزادہ حافظ مرزا ناصر احمد صاحب پرنسپل تعلیم الاسلام کالج نے انہی دنوں ذیل کے الفاظ میں کھینچا :- کو ہم بے سرو سامانی کا سال کہہ سکتے ہیں اور جن نوجوانوں نے اپنے کالج کے اس نازک تریں دور کو ہمت اور بشاشت سے گزارا وہ یقیناً قابل قدر ہیں۔خاصی تگ و دو و ناظم تعلیمات عامہ پنجاب کے ہمدردانہ رویہ کے نتیجہ میں۔۔۔۔کالج کی آباد کاری کے لئے ڈی۔اے وی کالج کے کھنڈرات پر ہمیں قبضہ ملا۔ان عمارتوں کو غیر مسلم پناہ گزین کلی طور پر تباہ و برباد کر چکے تھے۔دروازوں کے تختے اور چوکھٹے، روشندان، الماریاں وغیرہ ہر قسم کا فرنیچر غائب تھا۔عمل گاہوں میں ٹوٹی ہوئی شیشیوں کے بکھرے ہوئے ٹکڑوں کے سوا کچھ موجود نہ تھا۔پانی اور گیس کے نل ٹوٹے ہوئے پڑے تھے نہیں چالیس ہزار کتابوں پرمشتمل مشہور کتب خانے کی اپ ایک جلد بھی باقی نہ تھی۔یہ وہ کھنڈر تھے جن میں مئی سنہ میں ہم آباد ہوئے اور ہماری فوری توجہ ان ضروری اور نا گزیر متوں کی طرف منعطف ہوئی۔چنانچہ شروع میں گیس پلانٹ کو درست کروایا گیا اور شعبہ کیمیا کے لئے ضروری سامان خرید کر کیمیا کے عملی تجر بے اپنے کالج میں ہی شروع کروا دیئے گئے طبیعیات کے لئے ہمیں ایم۔اے او کالج سے انتظام کرنا پڑا۔جن کے ہر اور انہ سلوک کے ہم ہمیشہ ممنون رہیں گے کیونکہ ابھی اصل ہوسٹل پر قبضہ نہ ملا تھا۔اس لئے کالج کے ہی ایک حصہ کو مرمت کروا کے عارضی طور پر یہ ہوسٹل بنا دیا گیا۔جس میں اندازہ پچاس پچپن طلبہ کی گنجائش تھی جو وقتی طور پر کافی سمجھی گئی گو عملاً طلبہ اس سے بہت زیادہ آگئے جس کے نتیجہ میں ایک ایک کمرہ میں آٹھ آٹھ طلبہ کو رہنا پڑا ہے نه رساله المنار مئی جون ۱۹۶۰ صفحه ۰۲۴ ه ایضاً الفضل نے شہادت اپریل س ش صفحه ۳۔ارش *