تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 47 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 47

مور شدہ اور سمیر سہ اسی طرح بعض اور مواقع پر بھی میں توجہ دلاتا رہا ہوں کہ ہا کی قطعی طور پر صحت پر اچھا اثر پیدا نہیں کرتی بلکہ مضر اثر کرتی ہے۔ا کی میں ہاتھ جڑے رہتے ہیں اور سانس سینہ میں پھولتا نہیں۔اس طرح با وجود کھیلنے کے سینہ چوڑا نہیں ہوتا ) الفضل اور اکتوبر شد) جب میں نے یہ بات کہی اس وقت کسی کے وہم وگمان میں بھی یہ بات نہیں آسکتی تھی کہ ہاکی سے سینہ کمزور ہو کہ سیل کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے مگر اب دوسرے لوگ بھی آہستہ آہستہ اسی طرف آرہے ہیں۔عزیزم مرزا ناصر احمد کا ان الفاظ میں کہ وہ تمام تو میں جو انگریز یا انگریزی خون سے تعلق رکھنے والی ہیں ان کھیلوں کو کوئی اہمیت نہیں دیتیں اور ان کی زیادہ توجہ ایتھلیٹکس ( ATHLETICS) کی طرف رہتی ہے اور اس وجہ سے ان قوموں کے طلباء کی صحتوں پہ کوئی برا اثر نظر نہیں آتا " غالباً جرمنی کی طرف اشارہ ہے جہاں ان کھیلوں پر بہت کم زور دیا جاتا ہے کیونکہ ان کھیلوں کے روپیہ اور وقت زیادہ فرق ہوتا ہے مگر صحت کو کم فائدہ پہنچتا ہے۔چنانچہ ان کھیلوں کی بجائے انہوں نے جو دوسری کھیلیں اختیار کی ہیں ان کا صحت پر بھی اچھا اثر پڑتا ہے اور روپیہ بھی کم تخریج ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ دوسری کھیلوں کا رواج اب دن بدن بڑھ رہا ہے۔انگریزی مالک میں شاید اسی وجہ سے کہ وہاں گہر زیادہ ہوتی ہے اس قسم کی کھیلوں کی ضرورت سمجھی جاتی ہے جو دوڑ دھوپ والی ہوں لیکن وسطی یورپ یا سینوبی یورپ میں ان کا زیادہ رواج نہیں۔میں یورپین کھیلوں میں سب سے کم مصرفٹ بال سمجھتا ہوں کیونکہ اس سے سینہ پر بوجھ نہیں پڑتا بلکہ سینہ چوڑا اور فراخ رہتا ہے۔ہا کی میں چونکہ دونوں ہاتھ بند ہوتے ہیں۔ادھر سانس سینہ میں پھو لتا نہیں اس لئے ہاکی کے نتیجہ میں اکثر سینہ پہ ایسا بوجھ پڑتا ہے کہ وہ کمزور ہو جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ میں ہمیشہ ہاکی کو فر سمجھتا رہا ہوں۔مگر اب چار پانچ سال ہوئے انکار ہے میں ایک کمیشن مقرر کیا گیا تھا جس نے تحقیق کے بعد یہ رپورٹ کی کہ ہاکی پلیئرز میں سیل کا مادہ نسبتا زیادہ دیکھا گیا ہے۔