تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 642 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 642

۶۱۴ مگر خدا تعالیٰ نے مستورات کو شریروں کی گزند سے ہر طرح محفوظ رکھا۔البتہ ان احمدی نوجوانوں میں سے بعض کو سخت پھوٹیں آئیں جو لادیوں کے ساتھ حفاظت کے لئے بھیجے جاتے تھے۔مگر باوجود ان لوگوں کی ان حرکات کے حضرت امیر المومنین خلیفة المسیح الثانی المصلح الموعود نے اُن کے لئے دعا کی کہ خدا تعالے ان کی آنکھیں کھولے اور انہیں حق کو دیکھتے اور ہدایت کو قبول کرنے کی توفیق بخشے " ہے دہلی کی بعض سعید روحیں اس جلسہ کے بعد حضرت خلیفہ اسی الثانی تین روز تک نئی دہلی میں تشریف فرمار ہے۔اس عرصہ میں غیر احمدی اور ہندو سکھ معززین کی ایک بڑی تعداد احمدیت کی آغوش میں نیز ایک عرب صاحب نے شرف ملاقات حاصل کیا۔حضور روزانہ بعد نماز مغرب رات کے گیارہ بجے تک احمدی و غیر احمدی احباب کے مختلف مذہبی وسیاسی سوالات کے جواب دیتے تھے " اس اثنا میں حسب ذیل احباب حضور کے دست مبارک پر بیعت کر کے داخل احمدیت ہوئے۔ار محمد حسین صاحب (چیف انجینئر آفس نئی دہلی آفتاب احمد صاحب (چیف انجنیئر آفس نئی دہلی -۳- فیاض بیگ صاحب دریا گنج دہلی رمعہ اہلیہ صاحبه و پسران و دختران الله آخری روز یعنی ۲۰ شہادت / اپریل کو حضور تین بجے کے قریب سیدنا مصلح موعود کی دعا حضر خواجہ میر درد پہلے حضرت خواجہ میر درد رحمۃ اللہ علیہ کے مرقد مبارک پر اور اور حضرت شاہ ولی اللہ محدث کے مزار پر حضرت شاہ ولی اله محمدی در وی رحمہ اللہ علیہ کے مزار دہلوی مقدس پر دعا کے لئے تشریف لے گئے اور کافی دیر تک دعا فرماتے رہے۔ان ایام میں دہلی کے اطراف و جوانب سے آنے والے احمدی دوست بھی حضور کی زیارت سے مشرف ہوتے رہے۔الغرض حضور کے ایام انتہائی مصروفیت میں گزر ہے۔انہاں بعد حضور ۲۰ شہادت اپریل کوگیارہ بجے شب دہلی سے روانہ ہوئے۔اگلے روز ۲۱ شہادت پریل کو پونے بارہ بجے بخیریت قادیان تشریف لے آئے شے ة المصير صلی حالاست این بار اس المصلح الموعود نے قادیان پہنچتے ہی خطبہ جمعہ دیا جس میں اپنی زبان مبارک سے الفضل ۲۳ شہادت اپریل این سفر است له الفضل " ، ہجرت امنی ریش سفاک سے " الفصل" " ۳۲۳ : ۲۰ شہادت / اپریل ۳۲۳ میش ملک : له الفضل"، ہجرت مئی میں متک به شم" الفضل " ۲۲ شہادت اپریل سه مش صله ۲۲ ۰ +