تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 75 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 75

مجلس انصار الله اور دوسری مجالس حضر خلیفہ ایسیح الثانی کے پیش نظر مجلس انصاراللہ اور دوکر تنظیموں کے قیام کا مقصد کیا تھا اور حضور کی ان سے کیا توقعات کے بنیادی اغراض و مقاصد وابستہ تھیں؟ اس کی وضاحت خود حضور ہی کے الفاظ میں کیا جانا مناسب ہے۔بتصور فرماتے ہیں :- و میں نے انصار الله، خدام الاحمدیہ اور اطفال احمد یہ تین الگ الگ جماعتیں قائم کی ہیں تاکہ نیک کاموں میں ایک دوسرے کی نقلی کا مادہ جماعت میں زیادہ سے زیادہ پیدا ہو۔بچتے بچوں کی نقل کریں ، نوجوان نوجوانوں کی نقل کریں اور بوڑھے بوڑھوں کی نقل کریں جب بیچتے اور نوجوان اور بوڑھے سب اپنی اپنی جگہ یہ دیکھیں گے کہ ہمارے ہم عمر دین کے متعلق رغبت رکھتے ہیں۔وہ اسلام کی اشاعت کی کوشش کرتے ہیں۔وہ اسلامی مسائل کو سیکھنے اور ان کو دنیا میں پھیل آنکھیں مشغول ہیں۔وہ نیک کاموں کی بجا آوری میں ایک دوسرے سے بڑھ کر حصہ لیتے ہیں تو اُن کے دلوں میں بھی یہ شوق پیدا ہو گا کہ ہم بھی ان نیک کاموں میں حصہ لیں اور اپنے ہم عمروں سے آگے نکلنے کی کوشش کریں۔دوسرے وہ جو نقابت کی وجہ سے عام طور پر دلوں میں غصہ پیدا ہوتا ہے وہ بھی پیدا نہیں ہوگا جب بوڑھا بوڑھے کو نصیحت کرے گا ، نوجوان نوجوان کو نصیحت کرے گا اور بچہ بچے کو نصیحت کرے گا تو کسی کے دل میں یہ خیال پیدا نہیں ہوگا کہ مجھے کوئی ایسا شخص نصیحت کر رہا ہے جو عمر میں مجھ سے چھوٹا یا عمر میں مجھ سے بہت بڑا ہے۔وہ سمجھے گا کہ میرا ایک ہم عمر جو میرے جیسے خیالات اور میرے جیسے جذبات اپنے اندر رکھتا ہے مجھے سمجھانے کی کوشش کر رہا ہے اور اس وجہ سے اس کے دل پر نصیحت کا خاص طور پر اثر ہوگا اور وہ اپنی اصلاح کی طرف متوجہ ہو جائے گا۔مگر یہ تغیر اسی صورت میں پیدا ہو سکتا ہے جب جماعت میں یہ نظام پورے طور پر رائج ہو جائے ہماری جماعت کے سپرد یہ کام کیا گیا ہے کہ ہم نے تمام دنیا کی اصلاح کرنی ہے۔تمام دنیا کو اللہ تعالیٰ کے آستانہ پر جھکاتا ہے۔تمام دنیا کو اسلام اور احمدیت میں داخل کرنا ہے۔تمام دنیا میں اللہ تعالیٰ کی بادشاہت کو قائم کرتا ہے۔مگر یہ عظیم الشان کام اس وقت تک سرانجام نہیں دیا جا سکتا، جب تک ہماری جماعت کے تمام افراد خواہ بیچتے ہوں یا نوجوان ہوں یا بوڑھے ہوں ، اپنی