تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 74
۷۳ اس کے ساتھ ہی میں بیرونی جماعتوں کو بھی اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ خدام الاحمدیہ کی مجالس تو اکثر جگہ قائم ہی ہیں۔اب انہیں ہر جگہ چالیس سال سے زائد عمر والوں کے لئے مجالس انصار اللہ قائم کرنی چاہئیں۔ان مجالس کے وہی قواعد ہوں گے جو قادیان میں مجلس انصارہ اللہ کے قواعد ہوں گے۔مگر سردست باہر کی جماعتوں میں داخلہ قرض کے طور پر نہیں ہوگا۔بلکہ اُن مجالس میں شامل ہونا ان کی مرضی پر موقوف ہو گا۔لیکن جو پریزیڈنٹ یا امیر یا سکرٹری ہیں اُن کے لئے یہ لازمی ہے کہ وہ کسی نہ کسی مجلس میں شامل ہوں۔کوئی امیر نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنی عمر کے لحاظ سے انصار الله یا خدام الاحمدیہ کا ممبر نہ ہو۔کوئی پریزیڈنٹ نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنی عمر کے لحاظ سے انصار الله یا خدام الاحمدیہ کا ممبر نہ ہو۔اور کوئی سکرٹی نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنی عمر کے لحاظ سے انصار الله یا خدام الاحمدیہ کا ممبر نہ ہو۔اگر اس کی عمر پندرہ سال سے اوپر اور چائیں سال سے کم ہے تو اس کیلئے خدام الاحمدیہ کا میر ہونا ضروری ہوگا اور اگر وہ چالیس سال سے اوپر ہے تو اس کیلئے ان ائیر ک نمبر ہونا ضروری ہوگا۔اس طرح ڈیڑھ سال تک دیکھنے کے بعد خدا نے چاہا تو آہستہ آہستہ باہر بھی ان مجالس میں ال و انداز کر دیا جائیگا کیونکہ احدیت صحابہ کے نقش قدم رہے میں نے جہاد کا مانا جاتا تھا ان کی مرضی کے مالی نہیں لیا جاتا تھا بلکہ کہا جاتا تھا کہ جاؤ کام کرو۔مرضی کے مطابق کام کرنے کا میں نے جو موقعہ دیتا تھا وہ قادیان کی جماعت کو میں دے چکا ہوں اور جنہوں نے ثواب حاصل کرنا تھا انہوں نے ثواب حاصل کر لیا ہے۔اب پندرہ سے پچالیس سال تک کی عمر والوں کے لئے خدام الاحمدیہ میں شامل ہونا لازمی ہے۔اور اس لحاظ سے اب وہ ثواب نہیں رہا جو طوعی طور پر کام کرنے کے نتیجے میں ہو سکتا تھا۔بیشک خدمت کا اب بھی ثواب ہو گا لیکن جو طوعی طور پر داخل ہوئے اور وفا کا نمونہ دکھایا وہ سابق بن گئے۔البتہ انصار اللہ کی مجلس چونکہ اس شکل میں پہلے قائم نہیں ہوئی اور نہ کسی نے میرے کسی حکم کی خلاف ورزی کی ہے۔اس لئے اس میں جو بھی شامل ہوگا اُسے وہی ثواب ہو گا جو طوعی طوبہ پر نیک تحریکات میں شامل ہونے والوں کو ہوتا ہے “ لے الفصل یکم ظہور اگست میشه صفحه ۷-۱۸