تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 62
پانی کے استعمال سے کچھ روک پیدا ہو کہ شدید درد ہو جاتی ہے۔شاید ایسی ہی کوئی تکلیف ہو۔میں نے احتیاطاً اپنی ہو میو پیتھک دواؤں کا بکس بھی ساتھ لے لیا۔لیکن جب وہاں پہنچے تو کمرے میں امتد الودو لیٹی ہوئی تھی اور لمبے سانس جن میں بلغم کی شریرو ہٹ شامل تھی لے رہی تھی۔وہ بالکل بیہوش تھی اور آج اس کے چھا آیا " کی آمد اس کے لئے بالکل کوئی معنے نہ رکھتی تھی۔باہر ڈاکٹر تھے۔میں نے اُن سے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ درد کی رپورٹ غلط تھی۔اس کے دماغ کی رگ سوتے سوتے پھٹ گئی ہے اور طلبی معلومات کی رو سے اس کے بچنے کی کوئی صورت نہیں۔جب حالات دریافت کئے تو معلوم ہوا کہ رات کو بارہ بجے کے قریب لیٹیں اور تھوڑی دیر بعد کراہنے کی آواز آئی۔اس کے ابا میاں شریف احمد صاحب نے اس کی آواز شنی اور اس کے پاس آئے اور دیکھا کہ بیہوش ہے اور تشیخ کے دورے پڑ رہے ہیں۔وہ اس کی چار پائی برآمدے میں لائے اور اس وقت اس نے قے کی اور قے کے بعد اس قدر لفظ کہے کہ میرا سر پھٹا جاتا ہے، سر پکڑو اور خود ہاتھ اٹھا کہ سر پکڑ لیا۔میں یہ ہی اس کی ہوش تھی اور یہ ہی اس کے آخری الفاظ، فوراً ڈاکٹروں کو بلوایا گیا اور انہوں نے جو کچھ وہ کر سکتے تھے کیا۔مگر ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے شروع ہی سے کہہ دیا تھا کہ یہ موت کا وقت ہے۔اس بیماری کا کوئی علاج نہیں۔میرے سامے امر پنکچر کیا گیا اگر تشخیص مکمل ہو جائے چنا نچہ لب پنکچر سے بجائے پانی کے خون نکلا۔جس سے یہ امر یقینی طور پر معلوم ہو گیا اور که مصر کی رگ پھٹ کر دماغ کو خون نے ڈھانک لیا ہے۔چند منٹ کے بعد سانس رکھنے لگا۔میرے آنے کے نصف گھنٹہ بعد یہ بچی ہم سے ہمیشہ کے لئے جُدا ہو گئی۔انا للہ وانا الیہ رَاجِعُونَ تجہیز و تکنین ساڑھے چھ بجے شام تابوت اٹھایا گیا۔سیدنا حضرت خلیفہ البیع الثانی حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ، حضرت مرزا شریف احمد صاحب اور خاندان مسیح موعود کے دوسرے افراد تابوت کو اُٹھا کر باہر لائے۔جہاں ایک جم غفیر انتظار میں موجود تھا۔بہت سے لوگوں کو باری باری کندھا دینے کا موقع ملا۔تابوت باغ میں پہنچا تو قریباً سات بجے حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے کئی ہزار کے مجمع سمیت نماز جنازہ پڑھائی۔قبر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مزار کی چار دیواری میں کھودی گئی تھی۔نعش حضرت خلیفتہ السیح الثانی حضرت مرزا شریف احمد حصان 1419 له " الفضل " ۲۳ احسان / بون له مش صفحه ۲ تا ۳ *