تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 61
۶۱ دماغ کی رگ پھٹ گئی ہے۔ڈاکٹر محمد احمد صاحب کا بیان ہے کہ " حضرت میر صاحب نے جب دیکھا کہ خون نکل رہا ہے تو فوراً سوئی ( NEEDLE ) کو بڑی سے باہر نکال دیا اور کمرے سے یہ کہتے ہوئے تشریف لے گئے کہ اس کے بچنے کی اب کوئی امید نہیں ہے۔میں بھی حضرت میر صاحب کے ساتھ باہر کو چلا مگر مجھے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی رضی نے زور سے آواز دے کر کہا کہ ڈاکٹر محمد احمد ادھر آؤ اور جب تک مریض کی نبض پھیل رہی ہے علاج کرتے بھاؤ چنانچہ میں اپنی سمجھ کے مطابق کچھ انجکشن وغیرہ کرتا رہا ہے لیکن خدا کی مشیت پوری ہوئی اور صاحبزادی صاحبہ ساڑھے تین بجے صبح اس جہان فانی سے ہمیشہ کے لئے جدا ہوگئیں۔فانا الله وانا اليه راجعون - حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے سیدنا حضرت خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ صاحبزادی امتہ الودود صاحبہ کی بیماری کے حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے قلم سے ہماری کے حالات فرماتے ہیں۔" کوئی دو بجے کا وقت تھا کہ میری بیوی نے مجھے جگایا اور یہ فقرہ میرے کان میں پڑا کہ میاں شریعت احمد صاحب کی طرف سے اماں جان کے پاس آدمی آیا ہے کہ امتہ الودود کو درد کا دورہ ہوا ہے اور وہ بیہوش ہو گئی ہے۔ڈاکٹر جمع ہیں اور ان کا خیال ہے کہ اس کا آخری وقت ہے۔منہ دیکھنا ہے تو آکر دیکھ لیں“ حضرت ام المومنین لاہور تھیں۔میں گھبرا کر اٹھا اور گو بوجہ بیماری چھلنا پھر نا منع تھا۔مگر ایسے وقت میں بیماری کا خیال کیسے رہ سکتا ہے۔میں انا للہ پڑھتا ہوا اُٹھا۔اور چونکہ موٹر کوئی موجود نہ تھا۔ٹانگہ کے لئے آدمی دوڑایا۔مریم صدیقہ کو جگایا۔مریم ام طاہر کو اطلاع دی۔عزیزہ ناصرہ بیگم کو جو امتہ الودود کی بھاوج ہے اور دو دن کے لئے ہمارے گھر آئی ہوئی تھی جگایا۔اور ٹانگہ میں بیٹھ کر میں ، ناصرہ سلمہا اللہ تعالے ، ام دوسیم اور مریم صدیقہ عزیزم میاں شریف احمد صاحب کے گھر کی طرف روانہ ہوئے۔میں اب تک کی رپورٹ سے یہی سمجھ رہا تھا کہ اپنڑے سائیٹس کا دورہ ہوا ہو گا۔یا کبھی خیال آتا تھا کہ جوان لڑکیوں کو بعض دفعہ ایام میں ٹھنڈے نے مکتوب ڈاکٹر محمد احمد صاحب بنام مؤلف کتاب تاریخ احمدیت محمده ۲۷ ہجرت امنی پر پیش ۳۱۹ بم : بله - الفضل ۲۲ احسان / جون له میشن صفحہ ا کالم م :